مَشَقَّت ودشواری بڑھ جائے گی،لہٰذامناسب یہ ہے کہ تھوڑا تھوڑا کرکے آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھے اس طرح کہ جتنا کھانے کی عادت ہے اس سے تھوڑا تھوڑا کرکے کم کرے۔مثال کے طور پر وہ دو روٹی کھاتا ہے اور اپنے آپ کو ایک روٹی پر لانا چاہتا ہے دوسری روٹی کو 28 یا 30حصوں میں تقسیم کرلیا کرے اور روزانہ ایک ٹکڑا کم کر لیا کرے، اس طرح وہ مہینے میں ایک روٹی تک آجائے گا اور اس سے نہ تو اسے نقصان ہوگا اور نہ ہی نقصان کا اثر ظاہر ہوگا۔اگر چاہے تووزن کے ذریعے بھی ایسا کر سکتا ہے(اس طرح کہ وہ کھانے کو تر لکڑی کے ساتھ تولے اور ہر رات لکڑی کے خشک ہو نے کی مقدار جتنا کھانا کم کرلیا کرے)اگر چاہے تو مشاہدے کے ساتھ بھی کر سکتا ہے اس طرح کہ ہر دن ایک لقمہ کی مقدار کھانا چھوڑدے اور جتنا کَل کھایا تھا اس سے ایک لقمہ کم کردے۔
غذا کم کرنے میں درجات:
غذا کم کرنے کے چار درجات ہیں:
٭…پہلا درجہ: یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو بقدرِ ضرورت اتنے کھانے کی مقدار پر لے آئے کہ جس سے کم میں وہ زندہ نہ رہ سکے۔ یہ صِدِّیْقِیْن کا معمول ہے اور اسی کوحضرت سیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی نے پسند فرمایا ہے کیو نکہ آپ فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ مخلوق سے تین چیزوں یعنی زندگی،عقل اور قوّت کے ساتھ (اپنی)عبادت چاہتا ہے۔ اگر بندہ ان میں سے دویعنی زندگی اور عقل کے ضائع ہونے کا خوف محسوس کرے تو کھالے، اگر روزے رکھتا ہو تو روزہ رکھنا چھوڑدے، اگر فقیر ہو تو کھانے کی تلاش میں تکلیف اٹھائے اور اگر زندگی اور عقل کے ضائع ہونےکا خوف نہ ہو بلکہ قوت و طاقت کے چلے جانے کا ڈر ہو تو مناسب یہ ہے کہ وہ اس کی پروا نہ کرے اگر چہ کمزور ہوجائے اور بیٹھ کر نماز پڑھے اور یہ گمان کرے کہ بھوک کی کمزوری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھنا افضل ہے زیادہ کھاکر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے سے(1)۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1197صفحات پر مشتمل کتاب بہارِشریعت،جلدسوم،حصہ 16، صفحہ375پرصَدْرُالشَّرِیْعَہ،بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرت علامہ مولانا مفتی محمدامجدعلی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی’’درمختار‘‘کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں: رِیاضت ومُجاہَدہ میں ایسی تقلیل غذا(یعنی کھانے میں کمی کرنا)کہ عبادتِ مفروضہ(یعنی فرض کی ہوئی عبادت)کی ادا میں ضُعْف پیدا ہوجائے،مثلاًاتناکمزور ہوگیا کہ کھڑا ہوکر نماز نہ پڑھ سکے گا یہ ناجائز ہے اور اگر اس حد کی کمزوری نہ پیدا ہو تو حرج نہیں۔