Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
271 - 1245
کو  کھا لیتا لیکن وہ کہتا:”وَاللہ! میں اسے اپنے پیٹ میں اس وقت تک نہیں ڈالوں گا جب تک اس میں سے کچھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں نہ دے دوں۔“
	یہ بھوک کے دس فوائد ہیں اور ہر فائدے سے بے شمار فوائد نکلتے ہیں۔لہٰذا بھوک آخرت کے فوائد جمع کرنے کے لئے عظیم خزانہ ہے۔اسی وجہ سے بعض سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن نے فرمایا:”بھوک آخرت کی چابی اور زُہْد کا دروازہ ہے جبکہ شکم سیری دنیا کی چابی اور رغبت کا دروازہ ہے۔“بلکہ یہ بات ہماری بیان کردہ احادیث میں بھی صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ ان فوائد کی تفصیل جان لینے سے تمہیں ان احادیث مبارکہ کے معانی کا علم وفہم حاصل ہوجائے گا، اگر تم اس تفصیل کو نہ جانتے پھر بھی بھوک کی فضیلت کی تصدیق کرتے تو تمہارے لئے ایمان میں مُقلِّدین کا رتبہ ہوتا۔
تیسری فصل:	   پیٹ کی خواہش توڑنے کے لئے طُرُقِ رِیاضت
	جان لو کہ پیٹ اور غذا کے معاملے میں مرید پر چار وظائف لازم ہیں:
پہلاوظیفہ:صرف حلال کھائے
	صرف حلال کھائے کیونکہ حرام کھانے کے ساتھ عبادت کرنا ایسے ہی ہے جیسے سمندر کی موجوں پر عمارت تعمیر کرنااور ورع وپرہیزگاری کے جن درجات کی رعایت کرناضروری ہے انہیں ہم ”حلال وحرام کے بیان“میں ذکر کر چکےہیں اور بقیہ تین وظائف کا تعلق خاص طور پر کھانے کے ساتھ ہے۔دوسرا وظیفہ:کم یا زیادہ کھانے کے اعتبار سے غذا کی مقدار مقرر کرنا۔تیسرا وظیفہ:جلدی یا تاخیر سے کھانے کا وقت مقرر کرنا۔ چوتھا وظیفہ: کھانے اور نہ کھانے کے اعتبار سے اشیاء کی جنس مقرر کرنا۔
	ان کی تفصیل یہاں ذکر کی جائے گی۔
دوسراوظیفہ: غذا کم کرنے میں مقدارمقررکرے
	اس سلسلے میں ریاضت کا طریقہ یہ ہے کہ کھانے کوبتدریج آہستہ آہستہ کم کیاجائے کیو نکہ جو زیادہ کھانے کا عادی ہو وہ اگرایک دم کھانا کم کر دے تو اس کی طبیعت برداشت نہیں کرسکے گی اوروہ کمزور پڑ جائے گا نیز