Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
27 - 1245
 ہیں۔ حقیقتاً اس درجے میں بلندی کی کوئی حد نہیں کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معلومات لامحدودہے لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک سب سے بلند مرتبہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام کا ہے جنہیں کسی مشقت اور سیکھے بغیر کشف کے ذریعے لمحہ بھر میں تمام یا اکثر حقائق کا علم(1)عطا فرمادیا گیا۔ اسی سعادت (یعنی علم) کی بدولت بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات و صفات کے قریب ہوتا ہے (خبردار!) مکان اور مسافت کا قُرب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے متصور نہیں۔ قربِ خداوندی کے بلند ترین درجات سالکین(راہِ آخِرَت کے مُسافِروں) کی منزلیں ہیں جنہیں شمار کرنا ممکن نہیں۔ ہرسالک جس منزل پر فائز ہوتا ہے اس منزل اور اس سے نچلی منزلوں کے متعلق علم رکھتا ہےاور اپنے سے بلند مرتبے والی منزلیں جن کی حقیقت کا اسے علم نہیں ان پر ایمان رکھتا اور ان کی تصدیق کرتا ہے جیساکہ ہم انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام اور ان کی نبوتوں پر ایمان رکھتے اور ان کی تصدیق کرتے ہیں حالانکہ ہم نبی اور نَبُوَّت کی حقیقت کو نہیں جانتے جیسے ماں کے پیٹ میں موجود بچہ دودھ پیتے بچے کی حالت سے واقف نہیں اور دودھ پیتا بچہ بدیہیات کا علم رکھنے والے کی حالت سے واقف نہیں اور بدیہیات کا علم رکھنے والا نظری علم رکھنے والے کے متعلق نہیں جانتا کہ اسے کتنا علم ہے۔ ایسے ہی ایک عاقل شخص انبیائے کرام واولیائے عظام عَلَیْہِمُ السَّلَامکے مرتبے کو نہیں جانتا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں کن کن انعامات سے سرفراز فرمایا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیِّدِی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن’’فتاوی رضویہ،جلد29،صفحہ495‘‘پر حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی حدیْثِ پاک:اِنَّ اللّٰہَ قَدْ رَفَعَ لِیَ الدُّنْیَا فَاَنَا اَنْظُرُ اِلَیْھَا وَاِلٰی مَاھُوَ کَآئِنٌ فِیْھَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ کَاَنَّمَا اَنْظُرُ اِلٰی کَفِّی ھٰذِہٖ جَلِّیَانٌ مِّنْ اللّٰہِ جَلَّاہُ لِنَبِیِّہٖ کَمَا جَلَّاہُ لِلنَّبِیِّیْن مِنْ قَبْلِہٖ.بیشک میرے سامنےاللہ عَزَّ  وَجَلَّنے دنیا اٹھالی ہے اور میں اسے اور جوکچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے سب کچھ ایسے دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں،اس روشنی کے سبب جو اللہتعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے روشن فرمائی جیسے محمد سے پہلے انبیاء کے لئے روشن کی تھی۔صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم۔ (حلية الاولياء،۶/ ۱۰۷ …الخصائص الکبری،۲/ ۱۸۵…الد ولةالمکية بالمادة الغیبیة، ص۵۶)نقل کرنے کے بعدارشادفرماتے ہیں:’’اس حدیث سے روشن ہے کہ جو کچھ سماوات وارض میں ہے اور جو قیامت تک ہوگا اس سب کا علم اگلے انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ السَّلَامکو بھی عطا ہوا تھااورحضرت عزت عَزَّ جَلَالُہٗنے اس تمام مَاکَانَ وَ مَایَکُوْن کو اپنے ان محبوبوں کے پیش نظر فرمادیا، مثلاً: مشرق سے مغرب تک، سماک سے سمک تک، ارض سے فلک تک اس وقت جو کچھ ہورہا ہے سیِّدُناابراہیم خلیلعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالتَّسْلِیْمہزارہا برس پہلے اس سب کو ایسا دیکھ رہے تھے گویا اس وقت ہرجگہ موجود ہیں، ایمانی نگاہ میں یہ نہ قدرتِ الٰہی پر دشوار اور نہ عزت ووجاہَتِ انبیاء کے مقابل بسیار۔