حکمت بھری باتیں:
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی جب یہ آیت مبارکہ تلاوت کرتے:” اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحْمِلْنَہَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْہَا وَ حَمَلَہَا الْاِنۡسَانُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا ﴿ۙ۷۲﴾ (1)“توفرماتے: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس امانت کو ستاروں سے سجےتہہ در تہہ ساتوں آسمانوں اور عرش اٹھانے والے فرشتوں پر پیش کرتے ہوئے ارشادفرمایا: کیا تم امانت کو اس کی ذمہ داری کے ساتھ اٹھاؤ گے؟تو انہوں نے عرض کی: اس کی ذمہ داری کیا ہے؟ ارشاد فرمایا: اگر تم انہیں اچھی طرح ادا کرو گے تو تمہیں جزا دی جائے گی اور اگر نافرمانی کرو گے تو تمہیں عذاب کیا جائے گا۔انہوں نے عرض کی: نہیں۔ پھر امانت کو اسی طرح زمین پر پیش فرمایاتو اس نے انکار کر دیا۔ پھر امانت کو نہایت بلند وبالا،سخت اور ٹھوس پہاڑوں پر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: کیا تم امانت کو اس کی ذمہ داری کےساتھ اٹھاؤ گے؟ تو انہوں نے عرض کی: اس کی ذمہ داری کیا ہے؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جزا وسزا کا ذکر فرمایا۔ انہوں نے عرض کی:نہیں۔پھر امانت کو انسان پر پیش فرمایا تو اس نے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ترجمۂ کنز الایمان: بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو اُنہوں نے اس کے اٹھانے سےانکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور آدمی نے اٹھالی بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے۔(پ۲۲،الاحزاب:۷۲)
اس آیتِ مبارک میں امانت سے کیا مراد ہے اس کے متعلق صدر الافاضل حضرت علامہ سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں:”حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ امانت سے مراد طاعت و فرائض ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پیش کیا، انہیں کو آسمانوں، زمینوں، پہاڑوں پر پیش کیا تھا کہ اگر وہ انہیں ادا کریں گے تو ثواب دیئے جائیں گے نہ ادا کریں گے تو عذاب کئے جائیں گے۔ حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ امانت نمازیں ادا کرنا ، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا، خانہ کعبہ کا حج، سچ بولنا، ناپ اور تول میں اور لوگوں کی ودیعتوں میں عدل کرنا ہے۔ بعضوں نے کہا کہ امانت سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کا حکم دیا گیا اور جن کی ممانعت کی گئی۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)نے فرمایا کہ تمام اعضاء کان، ہاتھ، پاؤں وغیرہ سب امانت ہیں اس کا ایمان ہی کیا جو امانت دار نہ ہو۔ حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ امانت سے مراد لوگوں کی ودیعتیں اور عہدوں کا پورا کرنا ہے تو ہر مؤمن پر فرض ہے کہ نہ کسی مؤمن کی خیانت کرے نہ کافر معاہد کی نہ قلیل میں نہ کثیر میں۔“ انسان کے علاوہ پر امانت پیش کئے جانے کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:”امانت بطورِ تخییر پیش کی گئی تھی یعنی انہیں اختیار دیا گیا تھا کہ اپنے میں قوت و ہمت پائیں تو اٹھائیں ورنہ معذرت کر دیں، اس کا اٹھانا لازم نہیں کیا گیا تھا اور اگر لازم کیا جاتا تو وہ انکار نہ کرتے۔“