Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
268 - 1245
 جیساکہ سرکارِ مدینہ،فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان باقرینہ ہے:”اَدِیْمُوْا قَرْعَ بَابِ الْجَنَّةِ بِالْجُوْع یعنی بھوک کے ذریعے جنت کادروازہ ہمیشہ کھٹکھٹاتے رہو۔“(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد سے نہ پھرنے والے:
	جو شخص روزانہ ایک روٹی پر راضی و مطمئن ہو جائے وہ دیگر خواہشات میں بھی تھوڑے پر اکتفا کر لے گا نیز (بے عزتی اور لوگوں کی غلامی سے) آزاد ہوجائے گااور لوگوں سے مستغنی و بے نیاز ہوکرمشقت سے راحت و سکون پائے گا اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت اور آخرت کی تجارت کے لئے فارغ ہوجائے گا اور ان لوگوں میں سے ہوجائے گاجن کا ذکر اس آیتِ مُقَدَّسہ میں ہے:
لَا تُلْہِیۡہِمْ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ(پ۱۸،النور:۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان:جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید وفروخت اللہ کی یاد (سے)۔
	انہیں سودا اور خرید و فروخت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذکر سےمحض اس لئے غافل نہیں کرتاکیونکہ یہ حضرات قَناعَت اختیار کرنے کے سبب ان چیزوں سے مستغنی و بے نیاز ہو چکے ہیں اور جو ان کا محتاج ہو تا ہے اسے لازمی طور پر سودااور خرید و فروخت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذکر سے غافل کر دیتا ہے۔
بندے کا مال وہی ہے جسے وہ استعمال کرے:
٭…دسواں فائدہ: بھوک سے کم کھانے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اضافی  کھاناایثار کرنے اوراسے یتیموں اور مسکینوں پر صدقہ کرنے پر وہ قادر ہو جاتا ہے۔ اس طرح وہ بحکم حدیث قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سائے میں ہوگا۔(2)انسان جوچیز کھا لیتا ہے وہ بَیْتُ الخلا میں جمع ہو جاتی ہے اور جسے وہ صدقہ کردیتا ہے وہ فضْلِ خداوندی سےاس کے لئےذخیرہ ہوجاتی ہے، بندے کا مال تو وہ ہی ہے جو اس نے صدقہ کرکے باقی رکھا یا کھا کر فنا کر دیا یا پہن کر پرانا کر دیا، لہٰذااضافی کھا نے کو صدقہ کردینا بدہضمی اور شکم سیری سے بہتر ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…قوت القلوب،الفصل التاسع والثلاثون فی ترتيب الاقوات بالنقصان...الخ،۱/ ۲۸۸
2…الزهد لابن مبارک،باب الصدقة،ص۲۲۷،الحديث:۶۴۵