کے سر پر سوار رہتا ہےاور اس پر مکمل طور پر غالب آجاتا ہے اور کہتا ہے:”آج تو کیا کھائے گا؟“ لہٰذا مختلف مقامات پر اسے جانے کی حاجت پڑتی ہے، چنانچہ وہ حرام کما نے لگتاہے اور یوں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نا فرمانی میں جا پڑتا ہے یا پھر ذلیل و رسوا ہو کر حلال کماتا ہےاور بعض اوقات تووہ لوگوں کی طرف لالچ بھری نظروں سے دیکھنا شروع کردیتا ہےیہ انتہا درجے کی ذلت و بے عزتی ہےجبکہ مومن کی شان تو یہ ہے کہ وہ کم خرچ ہوتا ہے۔
خواہش پوری کرنے کا آسان طریقہ:
کسی دانا شخص کا کہنا ہے: میں اپنی اکثر حاجتوں کوترک کرکے پورا کر تا ہوں اس سے میرے دل کو زیادہ راحت ملتی ہے (کیونکہ اضطراب و بے چینی کسی چیز کو بنظر ِاشتیاق دیکھنے سے پیدا ہو تی ہے)۔
کسی دانا نے یہ بھی کہا ہے: جب میں اپنی کسی خواہش کی تکمیل یا ما ل میں اضافے کے لئے دوسرے سے قرض لینے کا ارادہ کرتا ہوں تو اپنے نفس سے قرض مانگ لیتاہوں اورخواہش کو چھوڑ دیتا ہوں لہٰذا میرا نفس میرا بہترین قرض خواہ ہے۔
مہنگائی ختم کرنے کا طریقہ:
حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اپنے مریدوں سے کھانے کی اشیاء کے بھاؤ پوچھا کرتے تو آپ سے کہا جاتا:”ان کی قیمتیں حد سے بڑھ گئی ہیں۔“ ارشاد فرماتے: ”انہیں خریدنا چھوڑ دوخود ہی سستی ہوجائیں گی۔“
حضرت سیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:تین حالتوں میں زیادہ کھانے والا قابِل مَذمَّت ہے:(۱) اگروہ عبادت گزاروں میں سے ہے تو سست ہو جائے گا (۲) اگر کمانے والا ہے تو آفات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا اور (۳)اگر(بغیر کمائے) اس کے پاس آمدنی آتی ہو تو اپنی طرف سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا پورا حق ادا نہیں کر سکے گا۔
لوگوں کی ہلاکت کا سبَب:
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ لوگوں کی ہلاکت کا سبب دنیا کی حرص ہے اور دنیا کی حرص کی وجہ پیٹ اور شرمگاہ ہے اور شرمگاہ کی شہوت کا سبب پیٹ کی خواہش ہے۔ کھانا کم کر نے سے یہ تما م حالتیں اور کیفیات ختم ہوجاتی ہیں نیز یہ جہنم کے دروازے ہیں اور جہنم کے دروازوں کو بند کرنے سے جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں