مضبوط وپختہ کلام میں نے کبھی نہیں سنا، یہ ضرور کسی حکیم کاکلام ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب،دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”اَلْبِطْنَةُ اَصْلُ الدَّاءِ وَالْحِمْیَةُ اَصْلُ الدَّوَآءِ وَعَوِّدُوْا کُلَّ جِسْمٍ مَا اعْتَادَ یعنی شکم سیری بیماری کی جڑ اور پرہیز دوا کی اصل ہے، ہرجسم کو اسی چیز کا عادی بناؤ جس کاوہ عادی ہے۔“
میرا یہ گمان ہے کہ حکیم پہلی کے مقابلے میں اس حدیث پاک کو سن کر زیادہ حیرت زدہ ہوا ہوگا۔
حضرت سیِّدُنا ابْنِ سالم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: ”جو بغیر سالن کے صرف گندم کی روٹی ادب کے ساتھ کھائے اسے موت کے علاوہ کوئی بیماری نہ ہو گی۔“عرض کی گئی: ”ادب سے کیا مراد ہے؟“ ارشاد فرمایا: ”ادب یہ ہے کہ تم بھوک لگنے کے بعد کھاؤاور پیٹ بھر نے سے پہلے ہاتھ اٹھالو۔“
نمک کی اہمیت:
ایک کامل طبیب نے زیادہ کھانے کی مذمت بیان کرتے ہوئے کہا: آدمی جو چیزیں اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے ان میں سب سے زیادہ نفع بخش چیز اَنار ہے اور سب سے زیادہ نقصان دہ چیز نمک ہے لیکن زیادہ انارکی بنسبت تھوڑا نمک زیادہ بہتر ہے۔
صحت مندی کا راز:
حدیث مبارکہ میں ہے:”صُوْمُوْا تَصِحُّوْا یعنی روزے رکھو صحت مند ہوجاؤ گے۔“(1)
کیو نکہ روزے میں بھوک ہے اور کھانا کم کرنے میں اجسام کی بیماریوں سے حفاظت ہے نیزد ل کے لئے سرکشی اور غرور و تکبُّر وغیرہ باطنی بیماریوں سے بچاؤ ہے۔
مومن کی شان:
٭…نواں فائدہ: بھوکا رہنے کا فائدہ یہ بھی ہے کہ مشقت وتکلیف کم ہوتی ہے۔کیونکہ جو کم کھانے کا عادی ہوتا ہے اسے مال کی تھوڑی مقدار بھی کفایت کر جاتی ہے اور جو پیٹ بھر کر کھانے کا عادی ہوتاہے اس کا پیٹ اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الاوسط،۶/ ۱۴۷،حديث:۸۳۱۲