Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
265 - 1245
 کا پیدا ہونا ہے۔ پھر مرض عبادات کی راہ میں رکاوٹ بنتا  اور دل کو تشویش و پریشا نی میں مبتلا کر تا ہے، ذکر وفکر سے روکتا اور زندگی کو دشوار اور اَجیرن کر کے رکھ دیتا ہے نیزبیمار ہوجانے کی صورت میں اسے فاسد خون نکلوانے اور دوا وطبیب کی حاجت پیش آتی ہے اور یہ تمام چیزیں روپیہ پیسہ مانگتی ہیں علاوہ ازیں اس سلسلے میں اسے تھکاوٹ کے ساتھ ساتھ کئی طرح کے گناہوں اور خواہشات کا شکار بھی  ہونا پڑتا ہے جبکہ بھوک میں وہ فوائد ہیں جو ان تما م چیزوں سے بچاتے ہیں۔ 
پیٹ کی بیماری کی بہترین دوا:
	منقول ہے کہ ہارون رشید نے چاراَطبّاکوجمع کیاان میں ایک ہندوستانی،دوسرارومی،تیسرا عراقی اورچوتھا سَوادی(عراق کے اطراف میں رہنے والا شخص) تھا، ان سے کہا:” ہر ایک ایسی دوا بیان کرے جسے استعمال کرنے کےسبب کوئی مرض نہ ہو۔“ہندوستانی حکیم نے کہا: ”میری نظر میں وہ سیاہ ہَڑہے۔“ عراقی حکیم نے کہا: ”وہ سفید ہالوں(ایک قسم کی بوٹی) ہے۔“ رومی حکیم نے کہا: ” میرے نزدیک وہ دوا گرم پانی ہے۔“ اورسوادی جو کہ ان میں سب سے زیادہ عِلْمِ طِب میں مہارت  رکھتا تھا،اس نے کہا: ”ہڑ معدہ میں قبض کر دیتی ہے اور یہ ایک بیماری ہے،ہالوں معدہ میں چکناہٹ پیدا  کرتی ہے اور یہ بھی ایک بیماری ہے اور گرم پا نی معدہ کو ڈھیلا کر دیتا ہے اور یہ بھی بیماری ہے۔“ ہارون رشید نے کہا: ”تمہارے نزدیک وہ کو ن سی دواہے؟“ سوادی نے کہا: ”وہ دوا میرے نزدیک یہ ہے کہ آپ کھانا اس وقت تک نہ کھا ئیں جب تک آپ کو خواہش نہ ہو اور خواہش ابھی باقی ہو کہ آپ کھانے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں۔“ ہارون رشید نے کہا:”تم نے سچ کہا۔“
یہ ضرور کسی حکیم کا کلام ہے:
	اہْلِ کتاب کے ایک حکیم کے سامنے جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حبیب، طبیبوں کے طبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کایہ فرمان:”ثُلُثٌ لِّلطَّعَامِ وَثُلُثٌ لِّلشَّرَابِ وَثُلُثٌ لِّلنَّفَس یعنی پیٹ کا ایک تہا ئی کھانے کے لئے،تہا ئی پینے کے لئے اور تہائی سانس کے لئے کرلے“(1) بیان کیا گیا تو اس نے حیرت کا اظہار کیا اور کہنے لگا: کم کھانے کے متعلق ایسا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الترمذی،کتاب الزهد،باب ماجاء فی کراهية کثرة الاکل،۴/ ۱۶۸،حديث:۲۳۸۷بتغیر