Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
264 - 1245
زیادہ کھانے کے سبب مشکل ہوجانے والے کام:
	زیادہ کھانے کے سبب جن کا موں کو کرنا مشکل ہو جاتا ہے اُن میں سے طہارت پر قائم رہنا اور مسجد میں ٹھہرنا بھی ہے کیونکہ اسے زیادہ پانی پینے اور پیشاب کرنے کے لئے مسجد سے باہر نکلنے کی ضرورت پیش آئے گی نیز ان کاموں میں سے ایک روزہ بھی ہے کیو نکہ روزہ رکھنا اس کے لئے آسان ہوتا ہے جو بھو کا رہنے کا عادی ہو۔
	معلوم ہوا کہ روزہ رکھنے، اعتکاف کے لئےمسجد میں ٹھہرنے، طہارت پر قائم رہنےنیز کھانے اور اس کے اسباب میں مشغولیت کے اوقات کو عبادت میں صرف کرنے میں فوائد کثیر ہیں اور ان کاموں کو ایسے غافل لوگ ہی معمولی سمجھتے ہیں جنہیں دین کی قدر نہیں بلکہ وہ دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے اور اسی پر مطمئن ہوگئے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
یَعْلَمُوۡنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۚۖ وَہُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ہُمْ غٰفِلُوۡنَ ﴿۷﴾ (پ۲۱، الروم:۷)
ترجمۂ کنز الایمان:جانتے ہیں آنکھوں کے سامنے کی دنیوی زندگی اور وہ آخرت سے پورے بے خبر ہیں۔
شکم سیری کی چھ آفات:
	حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے شکم سیری کی چھ آفات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو پیٹ بھر کر کھانا کھاتاہے اس پرچھ آفات آتی ہیں:(۱)…مناجات کی حَلاوت ومٹھاس نصیب نہیں ہو تی (۲)…مَعْرِفَتِ الٰہی کی حفاظت مشکل ہوجاتی ہے (۳)…مخلوق پر شفقت سے محرومی ہو تی ہے کیونکہ جب وہ شکم سیر ہوتا ہے تو گمان کرتا ہے کہ سبھی کا پیٹ بھرا ہواہے (۴)…عبادت بوجھ محسوس ہوتی ہے (۵)…خواہشات کا ہجوم ہوجاتا ہے اور (۶)…دیگر مسلمان مساجد کی طرف جا رہے ہوتے ہیں جبکہ زیادہ کھانےوالا بیت الخلا کے چکر لگا رہاہوتاہے۔
کم غذا مالی وبدنی نقصان سے بچاتی ہے:
٭…آٹھواں فائدہ: بھوکا رہنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ کم کھانے سے بندہ صحت مندرہتا اور بیماریوں سے بچا رہتا ہے۔کیونکہ بیماریوں کا سبب زیادہ کھانااور معدے اور رَگوں میں زائد اخلاط (یعنی صفرا،خون،بلغم، سَوْدا)