بھی فوت ہوجاتے ہیں، حمام کی اُجرت کی ضرورت بھی پیش آتی ہے اور حمام میں داخل ہو نے کی وجہ سے بعض اوقات نگاہ کسی کے سَتْر پر پڑجاتی ہے اور اس میں وہ خطرات ہیں جنہیں ہم(پہلی جلد میں)”طہارت کے بیان“ کے تحت ذکر کر چکے اور یہ سب کچھ پیٹ بھر کر کھا نے کا نتیجہ ہے۔حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: ’’احتلام ایک سزا ہے۔‘‘
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ بات اس لئے ارشاد فرمائی کہ احتلام کثرتِ عبادات کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے کیونکہ ہر حال میں غسل کرنا ممکن نہیں ہوتا،لہٰذانیندآفات کامنبع و مرکزہے اورشکم سیری اس کا سبب ہے جبکہ بھوک اس کو ختم کرتی ہے۔
دوامِ عبادت پر مدد ملتی ہے:
٭…ساتواں فائدہ: بھوکا رہنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ عبادت پرمُداوَمَت آسان ہو جاتی ہےکہ پیٹ بھر کر کھانا عبادت کرنے سے روکتا ہے کیونکہ کھانے میں مشغولیت کے لئے وقت کی حاجت پڑتی ہے اور بعض اوقات کھانا خریدنے اور پکانے میں بھی وقت صرف ہوتاہے پھر ہاتھ دھونے اوردانتوں کےخلال کی بھی ضرورت پیش آتی ہے۔ پھر زیادہ پانی پینے کے سبب کثرت سے بیت الخلاء کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ ان کاموں میں صَرْف کئے جانے والے اوقات کو اگر وہ ذکر و مناجات اور دیگرعبادات میں صَرْف کرتاتو اس کا نفع کثیر ہوتا۔
70تسبیحات کا فرق:
حضرت سیِّدُنا سَری سَقَطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا جُرجانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے پاس ستُّو دیکھے جسے آپ پھانک رہے تھے، میں نے ان سے کہا:”کس چیز نے آپ کو ستّو پھانکنے پر ابھارا؟“ فرمایا:”میں نے چبانے اورپھانکنے کے درمیان 70تسبیحات کا فرق پایا، اس لئے میں نے 40سال سے روٹی نہیں کھائی۔“
غور کیجئے! یہ اپنے وقت کے متعلق کتنے فکرمند تھے کہ اپنے وقت کو چبانے میں ضائع نہیں کیا۔ زندگی کا تو ہر سانس ہی نفیس جوہر ہے جس کاکوئی مول نہیں، لہٰذا اس سےآخرت میں باقی رہنے والا خزانہ حاصل کر لینا چاہئے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب اپنے وقت کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر اور اس کی فرمانبرداری میں گزاراجائے۔