کھانے سے حاصل ہوتی ہے۔
عورتوں کے خیالات دور کرنے کا طریقہ:
کسی دانا کا قول ہے: ہر وہ مرید جواپنے نفس کی نگہداشت پر ڈٹا رہے اس طرح کہ پورا سال صرف روٹی پر گزارہ کرے اوراس کے ساتھ کوئی خواہش(یعنی سالن وغیرہ) نہ ملائے اور پیٹ بھر کر بھی نہ کھائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے عورتوں کی فکر دور فرمادے گا۔
نیند زیادہ آنے کی وجہ:
٭…چھٹا فائدہ: بھوکا رہنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ نیند دور ہوتی اور شب بیداری میں دوام وہمیشگی حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ جو پیٹ بھر کر کھاتا ہے وہ پانی زیادہ پیتا ہےاور جو پانی زیادہ پیتا ہےاسے نیند بھی زیادہ آتی ہے۔ اسی لئے بعض بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کھانا حاضر ہو نے کے وقت فرمایا کرتے: ”اے مریدین کے گروہ! زیادہ نہ کھاؤکہ اس طرح پانی زیادہ پیوگے،پھر نیند بھی زیادہ آئے گی اور یوں زیادہ نقصان اٹھاؤ گے۔“70صِدِّیْقِیْن اس بات پرمُتَّفِق ہیں کہ’’نیند زیادہ آنے کی وجہ زیادہ پانی پینا ہے‘‘اور زیادہ سونے سے عمر ضائع ہوتی ہےنیز تہجد فوت ہوجاتی، طبعیت میں سستی آتی اور دل سخت ہوجاتا ہے۔عمر سب سے زیادہ نفیس وقیمتی جوہر ہے اور یہی بندے کا اصل مال اور سرمایہ ہے جس کے ساتھ وہ تجارت کرتا ہےجبکہ نیندایک طرح کی موت ہے اور اس کی کثرت عمر کو کم کر دیتی ہے۔ پھر تہجد کی فضیلت بھی پوشیدہ نہیں ہے اور سونے کے سبب اس فضیلت کو پانے کا موقع ہاتھ سے نکل جاتاہے اور اگر ایسا شخص تہجد پڑھ بھی لے پھر بھی نیند کے غلبہ کے سبب عبادت کی حلاوت و مٹھاس نہیں پا سکے گا۔
شکم سیری کے نقصانات:
پھر غیر شادی شدہ جب ڈٹ کر کھانے کے بعدسو تا ہے تو اسے احتلام ہوجاتا ہے اور یہ چیز بھی تہجد کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہےکیونکہ اسے غسل کی حاجت پیش آتی ہے، اب یا تو وہ ٹھنڈے پانی کے ساتھ غسل کرے گا تو ٹھنڈے پانی کے سبب اسے مشقت برداشت کرنی ہوگی یا اسے حَمام کی ضرورت پیش آئے گی اور بسا اوقات رات کو حمام میں نہیں جا سکتا۔پھراگراس نے وِتر تہجدکے وقت تک مؤخر کئے تھے تو اس کے وِتر