حضرت سیِّدُنا ذُوالنُّون مِصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: میں نے جب بھی پیٹ بھر کر کھانا کھایا یاتو گناہ میں مبتلا ہو ایاپھر گنا ہ کا پختہ ارادہ کیا۔
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں:میرے سرتاج،صاحِبِ معراج صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(کے وصالِ ظاہری)کے بعد سب سے پہلی بدعت جوپیدا ہوئی وہ پیٹ بھر کر کھانا ہے۔
لوگوں کے پیٹ جب بھر جاتے ہیں تو ان کے نُفُوس ان کو سرکش و بے لگام بنا کردنیاکی طرف دوڑاتے ہیں اوربھوکا رہنے کایہی ایک فائدہ نہیں ہے بلکہ یہ فوائد کا خزانہ ہے۔اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ بھوک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔بھوکا رہنے کےسبب کم سے کم یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ شرم گاہ اورگفتگو کر نے کی خواہش ختم ہوجاتی ہے کیونکہ بھوکے شخص میں فضول گفتگو کر نے کی خواہش حرکت نہیں کرتی۔ چنانچہ وہ بھوکا رہنے کے سبب زبان کی آفات مثلاً غیبت،فحش گوئی، جھوٹ،چغلی وغیرہ سےمحفوظ رہتا ہے اور بھوک ان تمام گناہوں سے اسے باز رکھتی ہے اور جب وہ پیٹ بھر کرکھا لیتا ہے تو اس کے دل میں خوش طبعی و ہنسی مذاق کی خواہش پیدا ہو تی ہے اور لا مُحالہ وہ لوگوں کی عزتوں وآبروؤں (کی دھجیاں اڑانے) کے ساتھ لطف اندوز ہوگا اور زبان کی لغزشیں ہی لوگوں کو منہ کےبل جہنم میں گراتی ہیں۔
شکم سیری کی آفت:
جہاں تک شرم گاہ کی شہوت کا تعلق ہے تو اس کافتنہ وبگاڑ پوشیدہ نہیں ہے اور بھوکا رہنا اس کے شر سے محفوظ رکھتاہے۔ جب انسان شکم سیر ہوتا ہے تو شرمگاہ پر قابو نہیں رکھ پاتااور اگر تقوٰی اسے روک بھی دے تو وہ اپنی آنکھوں کو نہیں بچاپائے گااور آنکھ بھی ایسے ہی زنا کرتی ہے جیسے شرمگا ہ کرتی ہے۔اگر نگاہیں نیچی رکھ کر اس نے اپنی آنکھوں کی حفاظت کربھی لی تو پھر بھی اسے اپنی سوچ و فکر پرقابو نہیں ہوگا لہٰذا اسے گھٹیا قسم کے خیالات آئیں گے اور شہوت کے اسباب پائے جانے کی وجہ سے اسے وسوسےآئیں گے جن کے سبب مناجات میں دشواری و خلل واقع ہو گا اور بعض اوقات یہ(وسوسے اور خیالات)دورانِ نماز بھی آتے ہیں۔
ہم نے زبان اور شرم گاہ کی آفت کو تو محض مثال کے طور پر پیش کیا ہے ورنہ ساتوں اعضاء (یعنی آنکھ، زبان، کان،پیٹ،شرمگاہ،ہاتھ اورپاؤں)سے صادر ہونے والےتمام گناہوں کا سبب وہی قوت ہے جوپیٹ بھر کر