Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
260 - 1245
 یاد کے علاوہ بھی کثیر فوائد ہیں۔یہ ان اسباب میں سے ایک سبب ہے جو انبیا واولیااوردرجہ بدرجہ دین میں ان حضرات سے قریب لوگوں کے ساتھ خاص ہوتا ہے۔
کہیں بھوکے کو نہ بھول جاؤں:
	جب حضرت سیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کی گئی کہ آپ بھو کے کیوں رہتے ہیں حالانکہ زمین کے خزانےآپ کے قبضے میں ہیں؟ توارشاد فرمایا: مجھے اس بات کا خوف ہے کہ میں پیٹ بھر کر کھاؤں تو کہیں بھو کے کو بھول نہ جاؤں۔
	معلوم ہوا کہ بھوکوں اور محتاجوں کو یاد رکھنا بھی بھوک کا ایک فائدہ ہے کیونکہ یہ چیز مخلوقِ خدا پر مہربانی و شفقت اور انہیں کھانا کھلانے پر ابھارتی ہے جبکہ شکم سیر بھوکے کی تکلیف سے غافل ہو تا ہے۔
نفْسِ اَمّارہ پر غلبے کی صورت:
٭…پانچواں فائدہ: بھوکا رہنے کا ایک فائدہ تما م گناہوں پر ابھارنے والی شہوات کاٹوٹ جانا اور نَفْسِ امّارہ پر غلبہ حاصل ہونا بھی ہے۔ یہ فائدہ بھوک کے بڑے فوائد میں سے ہےکیونکہ تمام گناہوں کی جڑشَہْوات اورقوّتیں ہیں اور یقینی طور پر قوتوں اور شَہْوات کا باعث کھانے کی چیزیں ہیں لہٰذا ان کی کمی ہر شہوت و قوت کو کمزور کر دیتی ہے۔ تمام کی تمام سعادت محض اس بات میں ہے کہ انسان اپنے نفس پر قابو پالے اور بدبختی اس بات میں ہے کہ اس کا نفس اسے قابو کرلے۔جب سرکش چوپائے کا پیٹ بھرا ہو تو طاقتور ہو نے کے سبب وہ بِدَ کْتا اور سرکشی کر تا ہے تو جیسےبھوکا رکھ کراسےکمزور کرکے تم اس پر قابو پاتے ہو ایسے ہی نفس بھی ہے۔
کمزوری گناہ سے بچاتی ہے:
	کسی بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا گیا:”کیا وجہ ہے کہ آپ بوڑھے ہونے کے با وجود اپنے بدن کی دیکھ بھا ل نہیں کرتے حالانکہ آپ کمز ور ہو چکے ہیں؟“ ارشادفرمایا:”کیو نکہ یہ جلد اِترانے لگتا ہے اور غرور و تکبر میں حد سے بڑھ جاتا ہے لہٰذا  میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ مجھے بے لگام و سرکش بنا کر ہلاکت میں نہ ڈال دے، اسے سختیوں میں مبتلا رکھنامجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ یہ مجھے گناہوں پرآمادہ کرے۔“