کے وقت ذائقےدار کھانوں کی طرف مائل ہوتی ہے لیکن عقل مندشخص ان سے دور رہتا ہے اور یہ دوری خواہش نفس کا نہیں بلکہ عقل کا تقاضاہے۔ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ انجام سے آگاہ کرنے والی عقل کے ساتھ اس کے تقاضے کے مطابق اعضاء کو حرکت دینے والے باعث (یعنی ارادے) کو پیدا نہ فرماتا تو عقل کی تخلیق کا مقصد فوت ہوجاتا۔
معلوم ہوا کہ ”علم“اور”ارادہ“انسا نی دل کی ایسی خصوصیات ہیں جو اسے تمام جانداروں سے ممتاز کرتی ہیں بلکہ بچہ بھی ابتداءً ان سے محروم ہوتا ہے، بلوغت کے بعد اس میں یہ دونوں چیزیں پیدا ہوتی ہیں،البتہ خواہش، غصہ اور ظاہری وباطنی حواس بچے میں بھی پائے جاتے ہیں۔ پھر ان کے حصول کے سلسلے میں بچے دو درجوں سے گزرتے ہیں:
حصول علم کے سلسلے میں بچوں کے دو درجے:
٭…پہلا درجہ:یہ ہے کہ بچہ تمام بدیہی علوم کو جاننے لگے، مثلاً محال کو محال اور ممکن کو ممکن سمجھے۔ اس صورت میں اسے عُلُومِ نظریہ کا علم اگرچہ حاصل نہ ہوگا لیکن اسے حاصل کرنے کے قریب ہوجائے گا۔ اس وقت عُلُومِ نظریہ کے حوالے سے اس بچے کی حالت اس شخص کی سی ہوگی جو کتابت کا طریقہ نہ جانتا ہو لیکن دوات، قَلَم اور حُرُوْف سے واقِف ہو۔ کیونکہ یہ بھی کتابت کرنے کے قریب ہے اگرچہ ابھی تک کی نہیں۔
٭…دوسرا درجہ:یہ ہے کہ بچہ تجربے اور غور وفکر کے ذریعے اپنے اندر علوم نظریہ حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کرلے۔ اس صورت میں یہ علم اس کے پاس خزانے کی مثل ہوگا جب چاہے اس کی طرف لوٹ جائے۔ اس وقت بچے کی حالت ماہر کاتب کی سی ہو گی کیونکہ اگرچہ وہ فی الوقت کتابت نہ بھی کر رہا ہو لیکن اس پر قدرت ہونے کی وجہ سے اسے کاتب ہی کہا جائے گا۔
علم کا یہ درجہ انسانیت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے لیکن اس درجے کے بےشمار مراتب ہیں۔ معلومات کی کثرت و قلت، اعلیٰ و ادنی اور معلومات حاصل کرنے کے طریقے مختلف ہونے کے اعتبار سے اس درجے میں لوگوں کے مرتبے بھی مختلف ہیں۔ بعض حضرات الہام الٰہی اور کشف کے ذریعے فی الفور علم حاصل کرلیتے ہیں اور بعض درس وتدریس کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ یونہی بعض لوگ جلد علم حاصل کرلیتے ہیں اور بعض دیر سے حاصل کرتے ہیں۔ ان تمام صورتوں کے پیشِ نظر انبیا، اولیا، حکَما اور عُلَما کے مختلف درجے