اَشْبَعُ یَوْمًا فَاِذَا جُعْتُ صَبَرْتُ وَتَضَرَّعْتُ وَاِذَا شَبِعْتُ شَکَرْتُ یعنی بلکہ میں ایک دن بھوکا رہوں گا اور ایک دن شکم سیر ہوں گا پس جب میں بھوکا ہوں گاتو صبر کروں گا اورتیری بارگاہ میں گڑگڑاؤں گا اور جب شکم سیر ہوں گا تو شکر کروں گا۔“(1)
جنت کا دروازہ کھولنا ہے یاجہنم کا ؟
پیٹ اور شرم گاہ جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اوراس کی اصل اور جڑپیٹ بھر کر کھانا ہے اور عاجزی وانکساری جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہےاوراس کی اصل اور بنیاد بھوکا رہنا ہے۔جس نے جہنم کے کسی دروازہ کو بند کیاتو لازمی طور پر اس نے جنت کے کسی دروازہ کوکھول لیا کیونکہ یہ دونوں مشرق ومغرب کی طرح ایک دوسرے سے دورہیں تو ایک سے قریب ہونا یقیناً دوسرے سے دورہونا ہے۔
لوگوں سے ہمدردی قائم رہتی ہے:
٭…چوتھا فائدہ: بھوک کا ایک فائدہ یہ ہے کہ بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے آزمائش و مصیبت اور اس کے عذاب کو نہیں بھولتا اور نہ ہی مصیبت میں مبتلا لوگوں کو بھولتا ہے جبکہ جس کا پیٹ بھرا ہو وہ تو بھوک کو بھی بھول جاتا ہے۔ نورِایمان سے دیکھنے والا سمجھ داربندہ جب کسی دوسرے کی مصیبت دیکھتا ہے تو آخرت کی مصیبت کو یاد کرتا ہے، اپنی پیاس سے قیامت کی دہکتی ہوئی زمین پر مخلوق کی پیاس کو یاد کرتا ہے اور اپنی بھوک سے جہنمیوں کی بھوک کو یاد کرتا ہے کہ جب جہنمیوں کوبھوک لگے گی تو وہ آگ کے کا نٹے اور تھوہڑ(ایک نہایت کڑوا درخت)، دوزخیوں کا جلتا ہوا پیپ اورگلا ہوا تانباکھائیں گے۔لہٰذابندے کے لئے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ اس سے آخرت کے عذابات و تکالیف مخفی و پو شیدہ رہیں کیو نکہ یہی چیز توخوف پیدا کرتی ہے اور جو شخص ذلت، بیماری، مال وعزت میں کمی اورآزمائش میں مبتلا نہ ہو وہ عذابِ آخرت کوبھول جاتا ہے، نہ اس کے دل میں عذابِ آخرت کا خیال آتا ہے اورنہ ہی اسےاس معاملے میں اپنے دل پر قابو ہو تا ہے۔لہٰذا مناسب یہ ہے کہ یا تو بندہ خود مصیبت و تکلیف کو جھیلے یا آزمائش و بلا میں مبتلا شخص کو دیکھتا رہے اور سب سے زیادہ لائق ومناسب مصیبت جسے بندہ جھیل سکتا ہے وہ بھوک ہے کیونکہ اس میں عذابِ آخِرت کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الايمان،باب فی الزهدوقصرالامل ،۷/ ۳۱۰،حديث:۱۰۴۱۰بتغیرقلیل