Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
258 - 1245
	حضرت سیِّدُناابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: ”مجھے عبادت میں سب سے زیادہ لذت وچاشنی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب میری پیٹھ میرے پیٹ سے مل جائے۔“
سیِّدُنا جنید بغدادیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا فرمان:
	حضرت سیِّدُناجنیدبغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں: کوئی شخص اپنے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے درمیان کھانے کی ٹوکری رکھ لیتا(یعنی پیٹ بھر کر کھالیتا)ہے اور چاہتا یہ ہے کہ عبا دت کی حَلاوت و مٹھاس کو پالے۔
	حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں :”جب بندہ بھوکا اور پیاساہوتا ہے تو دل صاف اور نرم ہوجاتا ہے اور جب پیٹ بھر کر کھا لیتا ہے تو دل اندھا اورسخت ہو جاتا ہے۔“
	دل کا مناجات کی لذت کو قبول کرنا معرفت اور فکر کے حصول کے علاوہ دوسری چیز ہے اوریہی دوسرا فائدہ ہے۔
تکبُّر وگھمنڈ ختم کرنے کا طریقہ:
٭…تیسرا فائدہ: بھوکا رہنے کا یہ فائدہ بھی ہے کہ عاجزی اورانکساری نصیب ہوتی ہے، غرور و تکبُّر،گھمنڈ اور اِتراہٹ چلی جاتی ہے جو کہ سرکشی ونا فرمانی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے غفلت کی جڑیں ہیں۔ نفس کسی چیز سے اتنا عاجز اور کمزور نہیں ہوتا جتنا بھوکا رہنے سے ہوتا ہے۔پس اس وقت نفس اپنے ربّ عَزَّ  وَجَلَّ(کے ذکر)سے سکون پاتا، اس کے سامنے جھکتا اور اپنے عِجْز اور کمزوری پر مطلع ہوتا ہے کیو نکہ کھانے کے چند لقمےچھوٹ جانے کے سبب نفس کی قوّت کمزور اوراس کی تدبیر نا کام ہو جاتی ہے اور پانی کا گھونٹ رہ جا نے سے دنیا اس پر تاریک ہوجاتی ہے اور جب تک انسان اپنے نفس میں کمزوری اور عجز نہ دیکھ لے اس وقت تک وہ اپنے مولیٰ عَزَّ  وَجَلَّ کی طاقت وغلبے کو نہیں دیکھ سکتا۔انسان کی سعادت صرف اس میں ہے کہ وہ اپنے نفس کو ہمیشہ حَقارت اور عجز کی نگاہ سے دیکھے اور اپنے مولیٰ عَزَّ  وَجَلَّ کوطاقت و قدرت اور غلبے کی نگاہ سے دیکھے۔لہٰذا اسے چاہئے کہ ہمیشہ بھوکااور اپنے مولیٰ عَزَّ  وَجَلَّ کےآگے محتاج بن کر رہے اور اِضطرار و عجز کےسبب نورِمعرفت کا مشاہدہ کرتارہے۔
	یہی وجہ ہے کہ جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی جانب سےمکی مدنی تاجدار،دو عالم کے مالک و مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے دنیا اور اس کے خزانے پیش کیے گئے تو آپ نے انہیں نہ لیتے ہوئے عرض کی:”بَلْ اَجُوْعُ یَوْمًا وَ