Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
257 - 1245
 کھولتی ہے اور معرفت جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے لہٰذا بہتر یہ ہے کہ مسلسل بھوکا رہ کر جنت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے۔
	اسی وجہ سے حضرت سیِّدُنالقمان حکیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے بیٹےکوارشاد فرمایا:بیٹا!جب معدہ بھر جاتا ہے تو غور وفکر کاسلسلہ رک جاتا ہے، حکمت چلی جاتی ہے اور اعضاء عبادت کے معاملے میں سستی کرتے ہیں۔
	حضرت سیِّدُنا ابویزید بسطامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:بھوک بادل کی طرح ہے ،جب بندہ بھوکا ہوتا ہے تو بھوک دل پر حکمت بر ساتی ہے۔
دنیا میں حور کا قرب:
	مصطفٰے جانِ رحمت،شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”بھوک حکمت کا نور ہے،شکم سیری اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دوری ہےاور مساکین سے محبت اور ان کے قریب ہونے سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا قرب حاصل ہو تا ہے اور پیٹ بھر کر نہ کھاؤ کہ اپنے دلوں سے حکمت کا نور بجھا دوگے اور جو کم کھانا کھا کر نماز پڑھتے ہوئے رات گزارتا ہے تو صبح تک اس کے گرد حور رات گزارتی ہے۔“(1)
مناجات کی لذت پانے کا سبب:
٭…دوسرا فائدہ: بھوکا رہنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ دل میں نرمی پیدا ہوتی اور صفائی حاصل ہوتی ہے اور ان دوباتوں کے سبب دل میں مناجات کی لذت پانے اور ذکر کا اثر قبول کرنے کی صلا حیت پیدا ہوتی ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ زبان پر ذکر جاری ہو تا ہے اوردل بھی حاضر ہوتاہے یعنی وہ اس کے معانی بھی سمجھ رہا ہوتا ہے لیکن رِقّت اور صفائی نہ ہونے کے سبب دل کو نہ تو اس سے لذت حاصل ہو تی ہے اور نہ ہی دل اس کا اثر قبول کرتا ہے، دل کی سختی کے باعث دل اور ذکر کے اثر کے مابین گویا ایک پردہ حائل ہو جاتاہے۔ جب دل میں رقّت ہوتی ہے تو ذکر کا اس پر بڑااثر ہو تاہے اور مناجات سے اسے بہت لذت حاصل ہوتی ہے اور معدہ کا خالی ہونادل میں رقّت ونرمی کا سب سے واضح اور نمایاں سبب ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینة دمشق،الرقم:۲۳۴۰،زيد بن عبدالله بن محمد،۱۹/ ۴۴۷