Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
256 - 1245
دل کی نرمی:
	حضرت سیِّدُناابو سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:بھوک کو اختیار کرو کیونکہ اس سے نفس کمزور پڑتا، دل نرم ہو تا اورآسمانی علم حاصل ہوتا ہے۔
	سرکارِ مدینہ ،راحت ِقلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اَحْیُوْاقُلُوْبَکُمْ بِقِلَّةِ الضِّحْکِ وَقِلَّةِ الشَّبْعِ وَطَھِّرُوْھَا بِالْجُوْعِ تَصْفُوْ  وَتَرِقُّ یعنی کم ہنسنے اور کم کھانے کے ذریعے اپنے دلوں کو زندہ کرو اور بھوکا رہنے کے ذریعے انہیں پاک کرو تویہ صاف اور نرم ہو جائیں گے۔(1)
	منقول ہے کہ بھوک گرج  کی مثل،قناعت باد ل کی طرح اور حکمت بارش کی مانند ہے۔
	نبیوں کے تاجوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : مَنْ اَجَاعَ بَطَنَہٗ عَظُمَتْ فِکْرَتُہٗ وَفَطَنَ قَلْبُہ یعنی جو اپنے پیٹ کو بھوکا رکھتا ہے اس کی فکر بلند اور دل سمجھدار ہوجاتا ہے۔
بدن کی زکوٰۃ:
	حِبر ُالاُمّہحضرت سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ خَتْمُ الرُّسُل ،مالک ِکل صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:مَنْ شَبِعَ وَنَامَ قَسٰی قَلْبُہٗ یعنی جو پیٹ بھر کر کھانا کھائے اور سوجائے تو اس کا دل سخت ہوجاتا ہے۔پھر ارشاد فرمایا:لِکُلِّ شَیْءٍ زَکَاةٌ وَزَکَاةُ الْبَدَنِ الْجُوْع یعنی ہر چیز کی زکوٰۃ ہوتی ہے اور بدن کی زکوٰۃ بھوکا رہنا ہے۔(2)
حکمت ونصیحت کا دروازہ:
	حضرت سیِّدُناابوبکرشِبْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں:”میں جس دن بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خاطربھوکا رہا میں نے اپنے دل میں حکمت اور عبرت و نصیحت کا ایک ایسا دروازہ کُھلتے دیکھاجسے میں نے پہلے کبھی نہ دیکھا۔“
	یہ بات مخفی اور پو شیدہ نہیں ہے کہ عبادات سے مقصودمَعْرِفَت تک پہنچانے والی فکر کا حصول اور حق تعالیٰ کے حقائق کو اچھی طرح دیکھنا ہے اور شکم سیری اس راہ میں رکاوٹ بنتی ہے جبکہ بھوک اس کا دروازہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تذکرة الموضوعات،باب فضل الحلاوة واطعامهاوالعسل...الخ،ص۱۵۱
2…سنن ابن ماجه،کتاب الصيام،باب فی الصوم زکاة الجسد،۲/ ۳۴۷،حديث:۱۷۴۵بتغیر