محض تکلیف پہنچانا اور اَذِیَّت جھیلنا ہے۔اگر ایسا معاملہ ہے تو ہر وہ چیز جس سے انسان کو تکلیف ہوجیسا کہ خود کو مارنا، اپنا گوشت کاٹنااور ناپسندیدہ اشیاء وغیرہ کو استعمال کرنا ان میں بھی بڑا اجر وثواب ہونا چاہئے؟
جان لوکہ یہ بات ایسے ہی ہےجیسے کوئی شخص دواپئے پھر جب اسے فائدہ ہو تو وہ یہ گمان کرے کہ فائدہ دوا کی کڑوا ہٹ اور ناپسندیدگی کی وجہ سے ہوا ہے۔ چنانچہ وہ ہر ناپسندذائقے والی چیزوں کو استعمال کرنے لگے حالانکہ یہ غلطی ہے بلکہ فائدہ تو دوا میں موجود خاصِّیَّت کی وجہ سے ہوا ہے نہ کہ اس کے کڑواہونے کے سبب اور اس خاصیت پر محض اَطِبّا ہی واقف ہوتے ہیں۔ایسے ہی بھوک سے حاصل ہونے والے نفع کی وجہ بھی صرف علم والے جانتے ہیں اور جو شخص اس وجہ سے بھوکا رہے کہ شریعت میں اس کی تعریف و توصیف بیان کی گئی ہے تو وہ فائدہ اٹھائے گا اگرچہ وہ فائدہ کی وجہ نہ جانتا ہوجیسے کوئی شخص دوا پیتا ہے تو اسے فائدہ حاصل ہوتا ہے اگرچہ اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے نفع دینے کی وجہ کیا ہے۔
اگر تم درجۂ ایمان سے ترقی کرتے ہوئے درجۂ علم تک پہنچنا چاہتے ہو تو ہم تمہارے لئے اس کی تشریح و تفصیل بیان کرتے ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
یَرْفَعِ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ؕ(پ۲۸،المجادلة:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیادرجے بلند فرمائے گا۔
چنانچہ ہم کہتے ہیں کہ بھوکا رہنے میں دس فوائد ہیں۔
بھوکا رہنے کے10فائدے:
٭…پہلا فائدہ: دل صاف ہوتا،طبیعت میں تیزی آتی اوربصیرت کامل ہوتی ہے۔ کیونکہ پیٹ بھر کر کھا نے سے سستی پیدا ہوتی ہے اور دل اندھا ہو جاتا ہے(بخارات معدہ سے دماغ کی طرف چڑھتے ہیں جس کی وجہ سے)دماغ میں بخارات بڑھ جا تے ہیں حتّٰی کہ یہ غور و فکر کی جگہوں پر قبضہ کرکے اس کے راستوں کو بند کر دیتے ہیں۔ چنانچہ اس کی وجہ سے فکری میدان میں گھومنے اور کسی بات کو فوری لینے میں دل کو پریشانی ہوتی ہے بلکہ بچہ جب کھانا زیادہ کھا لیتا ہے تو اس کی یادداشت وذہانت میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ کسی بات کے لینے اور سمجھنے کے معاملے میں سست ہو جاتا ہے۔