روٹی کا خیال:
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوْحُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام 60 دن تک ربّعَزَّ وَجَلَّسے مُناجات کرتے رہے اور اس دوران آپ نے کچھ نہ کھایا،دورانِ مُناجات آپ کے دل میں روٹی کا خیا ل پیدا ہوا تو آپ کے دل سے مُناجات کی اُنْسِیَّت چلی گئی اور کیا دیکھتے ہیں کہ سامنے ایک روٹی رکھی ہوئی ہے، آپ اس کیفیت کے چلے جانے پر رونے لگے۔اچانک ایک نیک شخص آپ کے سامنے آیا۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس نیک شخص سے کہا:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندے!اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں برکت عطا فرمائے، میرے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کردو! مجھ پر ایک کیفیت طاری تھی جیسے ہی میرے دل میں روٹی کا خیال آیا تو وہ کیفیت مجھ سے دور گئی۔ اس شخص نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تو جانتا ہے کہ جو کچھ مجھے کھانے کے لئے مُیَسَّر ہوا میں نے بےفکر ہوکر کھالیا، جب سے میں نے تجھے پہچانا ہے اگر میرے دل میں روٹی کا خیال آیا ہو تو مجھے نہ بخش۔
40 دن کھانا چھوڑے رکھا:
مروی ہے کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ کَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ہم کلامی کے ذریعے اپنا قرب عطافرمایا جیسا کہ قرآن پاک میں آیا ہےتو اس وقت آپ 40 دن پہلے ہی کھانا چھوڑ چکے تھے۔ پہلے 30دن پھرمزید 10دن کیونکہ ایک دن آپ رات میں روزےکی نیت کئے بغیر بھوکے پیاسے رہے تو اس کی وجہ سے آپ نے مزید دس دن روزے رکھے۔
دوسری فصل: بھوک کے فوائد اور شکم سیری کے نقصانات
نفس کے خلاف جہاد:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب،دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جَاھِدُ وْا اَنْفُسَکُمْ بِالْجُوْعِ وَالْعَطَشِ فَاِنَّ الْاَجْرَ فِیْ ذٰلِک یعنی بھوک اور پیاس کے ذریعے اپنے نفسوں کے خلاف جہاد کرو کیونکہ اس میں اجر ہے۔“
ایک سوال اور اس کا جواب:
شاید تم یہ کہو کہ بھوک کی یہ عظیم فضیلت کیونکرہے اوراس کا سبب کیا ہے حالانکہ اس میں معدہ کو