Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
253 - 1245
﴿11﴾…جان لو یہ وہ زمانہ ہے کہ اس میں کوئی شخص اُس وقت تک نجات نہیں پاسکتا جب تک بھوک،شب بیداری اور مجاہدہ کر کے اپنے نفس امّارہ  کوذبح نہ کر لے۔
﴿12﴾…روئے زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں گزرا کہ جس نے پانی سیر ہو کر پیا ہوپھر گناہ سے بچ گیا ہو اگرچہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر اداکرے، تو جو پیٹ بھر کر کھاناکھاتا ہے وہ کیسےگناہ سے محفوظ رہ سکتاہے؟
نفس کو کس طرح قید کیا جائے؟
	ایک دانا سےکسی نے دریافْت کیا: ”میں اپنے نفس کوکس طرح قیدکروں؟“ فرمایا: ”بھوکا اور پیاسارکھ کر اسے قید کرو،گمنامی اور ترکِ عزّت کے ذریعے اسے ذلیل کرو،اہل آخرت کے پاؤں تلے رکھ کراسے چھوٹا کرو، امیر لوگوں کی ہَیْئَت(بناوٹ) کو چھوڑ کر اسے توڑو،اس کے ساتھ ہمیشہ بد گمانی رکھ کے اس کی آفتوں سے نجات حاصل کرو اور  اس کی خواہشات کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے ساتھ رہو۔“
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی دوستی اور کرم نوازیاں:
	حضرت سیِّدُنا عبدالواحد بن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم کھاکر ارشاد فرمایاکرتے:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جسے بھی دوست بنایابھوکا رہنے کے سبب بنایا،اولیائے کرام پا نی پر چلتے ہیں تو بھوکا رہنے کے سبب، ان کے لئے زمین لپیٹی جاتی ہےتوبھوکا رہنے کے سبب اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان کی مدد بھی فرماتاہے توبھوکا رہنے کے سبب۔
پیٹ کی مثال:
	حضرت سیِّدُنا ابوطالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں:پیٹ کی مثال سارنگی کی طرح ہے کہ جس کی کھوکھلی و خالی لکڑی میں تار لگے ہوتے ہیں اور اس کی آواز کے اچھا ہونے کی وجہ اس کاہلکااورپتلاہوناہے نیز اس لئے بھی اس کی آواز اچھی ہوتی ہے کہ وہ  اند ر سے کھوکھلی ہوتی ہے بھری ہوئی  نہیں ہوتی اسی طرح پیٹ بھی جب خالی ہوتا ہے توتلاوت میں  لذت و مٹھاس،شب بیداری میں پابندی اور نیند میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
	حضرت سیِّدُنا ابوبکر بن عبداللہ مُزْنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں کہ تین لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ عَزَّوَجَلَّ محبت فرماتا ہے:کم سونے والا،کم کھانے والااور(عبا دت میں مشغول رہنے کے سبب)تھوڑا آرام کرنے والا۔