خیال کرتےاور بھوکا رہنے کی خوب کو شش کرتے۔
بھوک کے متعلق سیِّدُنا سَہل تُستری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے12فرامین:
﴿1﴾…بروزِقیامت کسی نیک عمل کا اتنا اجر نہیں دیاجائے گا جتنا رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی کرتے ہوئے زائد کھانے(1) کو چھوڑدینے پر دیا جائے گا۔
﴿2﴾…عقل مند لوگ دین و دنیا کے لئے بھوک سے زیادہ نفع مند چیز کسی کو نہیں سمجھتے۔
﴿3﴾…میں آخرت کے طلب گاروں کے لئے (حاجت سے زائد)کھانے سے زیادہ کسی چیز کو نقصان دہ نہیں جانتا۔
﴿4﴾…علم و حکمت کو بھوک میں اور معصیت و جہالت کو شِکَم سیری میں رکھ دیا گیا ہے۔
﴿5﴾…خواہشات کی مخالفت کرتے ہوئے حلال کو بھی چھوڑ دیناافضل ترین عبادت ہے۔
﴿6﴾…حدیث پاک میں ہے:”ثُلُثٌ لِلطَّعَامِ فَمَنْ زَادَ عَلَیْہِ فَاِنَّمَا یَاْکُلُ مِنْ حَسَنَاتِہ یعنی (پیٹ کا)تہائی حصہ کھانے کے لئے ہے جو تہائی سے زیادہ کھائے تو وہ اپنی نیکیوں ہی سے کھائے گا۔“حضرت سیِّدُنا سَہل تُستریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے زیادتی کا مطلب پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا: جب کسی کو بھوکا رہنا کھانے سے زیادہ محبوب ہو،تاکہ اسے عبادت کا موقع ملے پھر وہ کھانے میں مشغول رہے تو یہ زیادتی ہے۔
﴿7﴾…اَبدال بھوک ، شب بیداری،خاموشی اور خلوت کے ذریعے ہی ابدال بنتے ہیں۔
﴿8﴾…ہر وہ بھلائی ونیکی جوآسمان سے زمین کی طرف اترتی ہے اس کی اصل بھوکا رہنا ہے اور زمین وآسمان کے درمیان ہر گناہ وبدکاری کی جڑ پیٹ بھر کر کھانا ہے۔
﴿9﴾…جو اپنے آپ کو بھوکا رکھتا ہے اس سے وسوسے ختم ہو جاتے ہیں۔
﴿10﴾…بھوک،بیماری اور مصیبت کے وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت بندے کی جانب متوجہ ہوتی ہے اور یہ چیزیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سےنعمت ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبا دت کی خاطرپیٹھ سیدھی رکھنے کے لئے جتنے لقمے کا فی ہوتے ہیں اس سے زیادہ کھا لینا زائد کھانا کہلاتا ہے۔(اتحاف السادة المتقین،۹/ ۱۹)