عرض کرتے:”الٰہی! تونے بیماری اور بھوک کے ذریعے مجھے آزمایااور تواپنے اولیا کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتا ہے، تو میں کس عمل کے ذریعے تیری عطا کردہ نعمتوں کا شکر یہ ادا کروں؟“
غُرَبا کے لئے خوشخبری:
﴿7﴾…حضرت سیِّدُنامالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں:میں نے حضرت سیِّدُنا محمد بن واسع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا:”اے ابوعبد اللہ!اس شخص کے لئے خیر و بھلائی ہے جس کے پاس تھوڑاسا اناج وغلہ ہو جسے کھا کر وہ اپنا گزارہ کر لے اور لوگوں سے بے نیاز ہو جائے؟“ انہوں نے کہا:”اے ابویحییٰ!اس شخص کے لئے خیر و بھلائی ہے جس کی صبح اور شام بھوک کی حالت میں ہو اور وہ اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ سے راضی ہو۔
﴿8﴾…حضرت سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبارگاہِ رَبُّ العزت میں عرض کرتےہیں:الٰہیعَزَّ وَجَلَّ! تو نے مجھے اور میرے اہل وعیال کو بھوکا پیاسا رکھا اور رات کے اندھیروں میں مجھے چراغ کے بغیر رکھا، ایسا تو صرف تو اپنے اولیا کےساتھ کرتا ہے، مجھے یہ مقام و مر تبہ کس سبب سےملا؟
﴿9﴾…حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن مُعاذ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد فرماتے ہیں:آخرت کی رغبت رکھنے والوں کی بھوک انہیں عزّت وشرافت اور بلندی پر ابھارتی ہے،توبہ کرنے والوں کے لئے بھوک جانچ وآزمائش ہوتی ہے، عبادت میں کوشش کرنے والوں کے لئے بھوک عزّت و کرامت ہوتی ہے،دنیا کی رنگینیوں اور اس کی لذتوں پر صبر کرنے والوں کی بھوک ان کے نفسوں کی نگہداشت ہوتی ہے (تاکہ دنیوی حاجات کی طرف ان کی توجہ نہ جائے) اورزاہدوں کی بھوک حکمت ہوتی ہے۔
توریت شریف میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈر اور جب تو شکم سیر ہو جائے تو بھوکے لوگوں کو یاد کر۔
﴿10﴾…حضرت سیِّدُناابو سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی ارشاد فرماتے ہیں:رات کے کھانے سے ایک لقمہ چھوڑدینامجھے پوری رات عبادت کرنے سے زیادہ پسند ہے۔بھوک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خزانوں میں سےایک خزانہ ہے جسے وہ صرف اپنے محبوب بندوں کو عطا کرتا ہے۔
حضرت سیِّدُناسہل بن عبداللہ تُستری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیس دن سے زیادہ بھوکے رہتے کچھ نہ کھاتے، آپ کو سال بھر کے کھانے کے لئے ایک درہم کا فی ہوتا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھوک کو عظیم اور بڑی چیز