﴿20﴾…بے شک دنیا میں بھوکے رہنے والے آخرت میں شکم سیر ہو ں گے(1) اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند لوگ وہ ہیں جو پیٹ بھر کر کھا نے کے سبب بدہضمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور بندہ خواہش کے باوجود جب کوئی لقمہ چھوڑدیتا ہے تو(اس کے بدلے)اسے جنت میں ایک درجہ عطا کیا جاتا ہے۔
بھو ک کی فضیلت اورشکم سیری کی مذمت میں 10اقوال:
﴿1﴾…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:پیٹ بھر کر کھانے سے بچو کیونکہ یہ دنیامیں زحمت وبوجھ اور مرنے کے بعد بدبو کا باعث ہے۔
﴿2﴾…حضرت سیِّدُنا شقیق بَلْخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی ارشاد فرماتے ہیں:عبادت ایک پیشہ ہے جس کی دکان خلوت جبکہ اس کا اوزار بھوکا رہنا ہے۔
﴿3﴾…حضرت سیِّدُنالُقْمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نے اپنے بیٹےکو(نصیحت کرتے ہوئے)ارشادفرمایا:اے میرے بیٹے !جب معدہ بھر جاتا ہے تو غور وفکرکاسلسلہ رک جاتا ہے، حکمت چلی جاتی ہے اور اعضاء عبادت کے معاملے میں سستی کرنے لگتےہیں۔
﴿4﴾…حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنےآپ کو مخاطب کرکے ارشاد فرماتے:تجھے کس چیز کا خوف ہے؟ کیا تو بھوکا رہنے سے ڈرتا ہے؟ تواس معاملے میں خوف نہ کر کیونکہ اس کی وجہ سے توعبادت کے لئے ہلکا پھلکا رہتا ہے۔ خود باعِثِ تخلیق کائنات،فَخْرِمَوجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ان کے اصحاب عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بھی بھوک کو اختیار فرمایا۔
﴿5﴾…حضرت سیِّدُناکَہْمَسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبارگاہِ الٰہی میں عرض کیا کرتے:الٰہیعَزَّ وَجَلَّ!میں بھوکا،پیاسا، لباس سے بے نیازاوررات کی تاریکی میں بغیرچراغ کے رہا میرا ایسا کون سا عمل ہے جس کے سبب تُو نے مجھے یہ مقام ومرتبہ عطا فرمایا۔
﴿6﴾…حضرت سیِّدُنافتح مَوصِلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکی بھوک اوربیماری جب بڑھ جاتی توبارگاہِ خداوندی میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبير،۱۱/ ۲۶۷،حديث:۱۱۶۹۳