Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
25 - 1245
	ناتجربہ کارشکاری ہونا انسان میں حکمت و بصیرت کی کمی اور جہالت کی مثال ہے اور گھوڑے کا سرکش ہونا انسانی خواہشات کے حدسے بڑھ جانے کی مثال ہےخصوصًا پیٹ اور شرم گاہ کی خواہش کابڑھ جانا اور کتے کا پاگل ہونا غصہ زیادہ ہونے کی مثال ہے۔
	ہماللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے اچھی تو فیق کا سوال کرتے ہیں۔
تیسری فصل:				انسانی دل  کی خُصُوصِیات
	جا ن لیجئے کہ دل کے متعلق اب تک ہم نے جو کچھ ذکر کیا ہے ان نعمتوں سےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انسان کے ساتھ ساتھ حیوانات کو نوازا ہے،مثلاً خواہش، غصہ، ظاہری وباطنی حواس حیوانات میں بھی پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بکری جب بھیڑیئے کو دیکھتی ہے تو اپنے دل کے ذریعے اس کی دشمنی کو جان لیتی اور بھاگ جاتی ہے، اسی کو باطنی ادراک کہتے ہیں۔
	اب ہم انسانی قلب کی خصوصیات ذکر کریں گے جن کے سبب انسا ن کو شرف و فضیلت حاصل ہے اور انہی کی وجہ سے یہاللہعَزَّوَجَلَّکا قُرب پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ان خصوصیات سے مراد”علم“اور”ارادہ“ ہے۔
	علم: اس سے مراد دنیوی، اُخروی  اور عقل سے تعلق رکھنے والے معاملات کا علم ہے۔ ان کا تعلق حواس سے نہیں بلکہ یہ عقل کا خاصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حیوانات ان علوم کی صلاحیت نہیں رکھتے، صرف انسان ہی (عقل کی بدولت) یہ سمجھ سکتا ہے کہ ایک شخص کا ایک ہی حالت میں دو جگہوں پر پایا جانا ممکن نہیں اور اس کا یہ فیصلہ تمام انسانوں کے متعلق ہوگااگرچہ اس نے دنیا کے چند افراد دیکھے ہیں۔پس  ثابت ہوا کہ عقل کا حکم حس سے بڑھ کر ہے۔
	جب آپ نے اس مثال کے ذریعے عقل اور حس کے فرق کو جان لیا تو نظری (یعنی غور وفکر کے ذریعے حاصل ہونے والے) علوم میں یہ فرق اور زیادہ واضح ہوجائے گا۔
	ارادہ: انسان جب کسی چیز کے انجام اور اس میں موجود اچھائی کو جان لیتا ہے تو انسان کے اندر اس اچھائی اور اس تک پہنچانے والے اسباب کے حُصول کا شوق پیدا ہوجاتا ہے اور انسان اس کا ارادہ کرلیتا ہے۔ یہ ارادہ خواہش نفس کی پیروی اور حیوانی ارادہ نہیں  بلکہ یہ تو خواہش نفس کی ضد ہے کہ نفسانی خواہش پچھنے لگوانے کو ناپسند کرتی ہے جبکہ عقل اس کے فوائد کے پیش نظر اس کا تقاضا کرتی اور اس پر رقم خرچ کرتی ہے۔ یونہی خواہش نفس بیماری