Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
249 - 1245
سرکار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی بھوک:
﴿18﴾…اُمُّ الْمُؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں  کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی پیٹ بھرکرکھانا نہیں کھایا،جب میں آپ کو بھوک کی حالت میں دیکھتی تو آپ سے ہمدردی کرتے ہوئے بسا اوقات رو پڑتی اور آپ کے شِکمِ اَطہر پر اپنے ہاتھوں کو پھیرتی اور عرض کرتی:” میری جان آپ پر قربا ن!اگر آپ دنیا سے اتنی مقدار لے لیں جوآپ کو قوت بخشے اور آپ کی بھوک مٹا دے تو اس میں کیا حَرَج ہے؟“آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے:”اے عائشہ! میرے ہمت والے بھائیوں (یعنی رسولوں) نے اس سے بھی زیادہ سختیوں پر صبر کیا اور وہ اپنی اسی حالت پر قائم رہے پھر جب اپنے ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو انہیں عزت والا مقام ملا اور بہت زیادہ ثواب عطا کیا گیا، مجھے حیا آتی ہے کہ اگر میں دنیا میں آسانی حاصل کروں تو کل کہیں ان کے مقابلے میں میرا مرتبہ کم نہ ہوجائے، مجھےچند دن صبر کرنا اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ کل آخرت میں میرا حصہ کم ہو، مجھے اپنےرفیقوں اور بھائیوں کےساتھ ملنے سے بڑھ کر کوئی چیز پسند نہیں ہے۔“(1) اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں:”وَاللہ!اس کے بعد ایک ہفتہ نہیں گزرا تھا کہ آپ اس دنیائے فانی سے کوچ فرماگئے۔“
﴿19﴾…حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ خاتونِ جنّت حضرت سیِّدَتُنا فاطمہ زَہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا روٹی کا ایک ٹکڑا لئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئیں،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت  فرمایا:”یہ ٹکڑا کس لئے ہے ؟“انہوں نےعرض کی:”میں نےروٹی پکائی تھی،  آپ کے بغیر کھانا پسند نہ کیا اس لئے یہ ٹکڑا لے کرحاضر ہوئی ہوں۔“یہ سن کرحضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”تین دن کے بعد یہ پہلا کھانا ہے جو تمہارے والد کے منہ میں پہنچا ہے۔‘‘(2)
	حضرت سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبیّ مختار،سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے وصال تک مسلسل تین دن اپنے گھروالوں کوگندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھلائی۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الشفابتعريف حقوق المصطفی،فصل وامازهده،۱/ ۱۴۳بتغیر
2…تاريخ مدينه دمشق،السيرة النبوية،باب ذکر تقلله وزهده...الخ،۴/ ۱۲۲
3… مسلم،کتاب الزهدوالرقائق،ص۱۵۹۰،حديث:۲۹۷۶