Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
247 - 1245
شخص کی طرح چلتے ہیں حالانکہ ان کی عقلیں اس وقت بھی سلامت ہوں گی جب لوگوں کی عقلیں چلی جائیں گی۔ ان کے لئے آخرت میں بلند مرتبہ ہوگا۔ اے اسامہ!جب تم انہیں کسی شہر میں دیکھوتو جان لینا کہ یہ اس شہر والوں کے لئے امان ہیں۔ جس قوم میں یہ ہوں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان پر عذا ب نہیں فرماتا،زمین ان سے خوش اور ربّ عَزَّ   وَجَلَّ ان سے راضی ہے، تم انہیں اپنا بھائی بنا لیناقریب ہے کہ تم ان کے وسیلے سے نجات پاجاؤ۔ اگر تمہارے لئے ممکن ہو کہ موت کے وقت تمہارا پیٹ بھوکا اورجِگَر پیاسا ہو تو ایسا ہی کرناکیونکہ اس کے سبب تم بلند مقام و مرتبہ پالو گے، انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا ساتھ تمہیں نصیب ہو گا، فرشتے تمہاری روح کے آنے سے خوش ہوں گے اور اللہ عَزَّ   وَجَلَّ تم پر رحمت فرمائے گا۔(1)
﴿12﴾…اونی لبا س پہنو،پاجامہ ٹخنوں سے اوپر رکھواور پیٹ بھر کر نہ کھاؤ آسمانوں کی سلطنت میں پرواز کرنے لگو گے۔ (2)
حصول معرفت کا ایک طریقہ:
	حضرت سیِّدُنا عیسیٰروحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا:”اے حواریوکے گروہ! اپنے پیٹوں کو بھوکا پیاسارکھواورلباس بقدر ضرورت پہنوشاید کہ تمہا رے دل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو دیکھ لیں۔“(ایک روایت میں ہے تاکہ تمہا رے دل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی معرفت حاصل کرلیں۔) (3)
	یہی بات پیارے مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سےبھی مروی ہے جسے حضرت سیِّدُنا طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے روایت کیا ہے۔
	تورات میں لکھا ہے:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ موٹے عالِم کو ناپسند فرماتا ہے۔(4)
	یہ اس لئے کہ موٹاپا،غفلت اور زیادہ کھانے پر دلالت کرتا ہے اور یہ بات قبیح اور بُری ہے، بالخصوص عالِم کے لئے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…قوت القلوب،الفصل التاسع والثلاثون فی ترتيب الاقوات بالنقصان…..الخ،۲/ ۲۷۸
2…فردوس الاخبار،۱/ ۶۸،حديث:۳۳۸ بتغيرقلیل
3…قوت القلوب،الفصل التاسع والثلاثون فی ترتيب الاقوات بالنقصان…الخ،۲/ ۲۸۳
4…تفسير الطبری،پ۷،سورة الانعام:۹۱،۵/ ۲۶۲،حديث:۱۳۵۳۹