آزمایا تو اس نے صبر کیااور انہیں چھوڑدیا۔ اے میرے فرشتو!گواہ ہوجاؤ!اس نے جو لقمہ بھی چھوڑا میں اس کے بدلے اسے جنت میں دَرَجات عطا کروں گا۔“
﴿9﴾…زیادہ کھا نے اور پینے کے ذریعے اپنے دل کومردہ نہ کرو کیو نکہ دل کھیتی کی طرح ہے کہ جب اسے زیادہ پانی ملے تو وہ خراب ہو جاتی ہے۔
﴿10﴾…آدمی اپنے پیٹ سے زیادہ بُراکوئی برتن نہیں بھرتا، آدمی کواپنی پیٹھ سیدھی رکھنے کے لئے چند لقمے کافی ہیں اگراس سےزیادہ کھانا ضروری ہو توپیٹ کاتہا ئی کھانے کے لئے، تہائی پینے کے لئے اور تہائی سانس کے لئے رکھو۔(1)
روزِقیامت ربّ تعالیٰ کے زیادہ قریب:
﴿11﴾…بے شک بروزِ قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں طویل عرصہ تک بھوکے، پیاسے اور غمگین رہے ہوں گے۔یہ وہ لوگ ہیں جو(عام لوگوں کی نظروں سے) پوشیدہ اورمُتَّقِی ہیں کہ اگر موجود ہوں توپہچانے نہ جائیں، غائب ہوں تو انہیں تلاش نہ کیا جائے، زمین کے ٹکڑے انہیں پہچانتے ہیں اور آسمان کے فرشتے ان کو گھیرے ہوئے ہیں۔لوگ دنیاسے خوش ہوتے ہیں اور یہ لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت وفرمانبرداری سے خوش ہوتے ہیں۔ لوگ نرم وملائم بستر بچھاتے ہیں جبکہ یہ لوگ پیشانیاں اور گھٹنے بچھاتے ہیں(یعنی راتیں سجدوں میں گزارتے ہیں)۔ لوگ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام کی سنّتوں اوران کے اخلاق سے روگردانی کرتے ہیں لیکن یہ ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ جب ان میں سے کسی کا انتقال ہوجاتاہے توزمین روتی ہے اور جس شہر میں ان میں سے کوئی نہ ہو اس شہر پر جبَّار عَزَّ وَجَلَّ غضب فرماتا ہے۔ یہ لوگ دنیا پر اس طرح نہیں ٹوٹ پڑتے جس طرح سڑے ہوئےمردار پر کُتّے ٹوٹ پڑتے ہیں بلکہ یہ لوگ تو کم کھاتے اور پرانا لباس پہنتے ہیں۔ ان کے بال بکھرے ہوئے اورچہرےغبار آلودہوتے ہیں۔ لوگ اِنہیں دیکھ کر بیمار گمان کرتےہیں حالانکہ یہ بیمار نہیں ہوتے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ اِنہیں دماغی عارِضہ لاحِق ہواہے جس کی وجہ سےان کی عقلیں چلی گئی ہیں حالانکہ ان کی عقلیں گئی نہیں ہوتیں لیکن انہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےمعاملے میں غور وفکر کیاتو اس کے سبب ان کے اندر سے دنیا(کی محبت)چلی گئی۔ دنیا والوں کے نزدیک یہ لوگ بے عقل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الترمذی،کتاب الزهد،باب ماجاء فی کراهية کثرة الاکل،۴/ ۱۶۸،حديث:۲۳۸۷