Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
245 - 1245
باب نمبر1:		             پیٹ کی شہوت کا بیان(اس میں پانچ فصلیں ہیں )
پہلی فصل:		   بھوک کی فضیلت اور پیٹ بھرنے کی مَذَمَّت
بھوک کی فضیلت اور شکم سیری کی مذمت میں 20 فرامین مصطفٰے:
﴿1﴾…بھوک اور پیاس کے ذریعے اپنے نفسوں کے خلاف جہاد کرو کیونکہ اس کا اجر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے اجر جیسا ہے اور کوئی عمل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو بھوک اور پیاس سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ نہیں۔
﴿2﴾… جو شخص اپناپیٹ بھر تاہے وہ آسمانوں کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔
﴿3﴾…بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی:”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!لوگوں میں کون افضل ہے؟“ ارشاد فرمایا:”جس کا کھانااور ہنسنا کم ہو اور اتنے لباس پر راضی ہو جس سے اپنا سِتْر ڈھانپ سکے۔“
﴿4﴾…سَیِّدُالْاَعْمَالِ الْجُوْعُ وَذَلُّ النَّفْسِ لِبَاسُ الصُّوْف یعنی اعمال کی سرداربھوک ہے اور نفس کی ذلّت اُون کے لباس میں ہے۔
﴿5﴾…(اونی)لباس پہنو اور پیٹ بھر کر کھاؤ نہ پیو بےشک یہ نَبوَّت کا ایک حصہ ہے۔ (1)
﴿6﴾…اَلْفِکْرُنِصْفُ الْعِبَادَةِ وَقِلَّةُالطَّعَامِ ھِیَ الْعِبَادَةُ یعنی غور و فکر نصف عبادت ہے اور کم کھانامکمل عبادت ہے۔
﴿7﴾…بروزِ قیامت اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک مقام و مرتبہ کے اعتبار سے تم میں افضل وہ شخص ہوگا جو زیا دہ بھوکا رہنے والا اور زیادہ غور وفکر کرنے والا ہوگا اور زیادہ ناپسندیدہ وہ شخص ہوگا جو زیادہ کھانے، زیادہ پینے اور زیاده سونے والا ہوگا۔
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی بھوک اختیاری تھی:
	ایک روایت میں ہے کہ رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماِختیاری طور پر بھوک برداشت فرمایاکرتےتھے۔(2)
﴿8﴾…بے شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرشتوں کے سامنےدنیا میں کم کھانے اور کم پینے والے شخص پر فخر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:”میرے بندے کی طرف دیکھو!میں نے کھانے پینے کی چیزوں کے ذریعے اسے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فردوس الاخبار،۱/ ۶۸،حديث: ۳۳۹،۳۳۸  ملتقطًا
2…شعب الايمان،باب فی المطاعم والمشارب….الخ،۵/ ۲۶،حديث:۵۶۴۰