جیسے حسد اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنا،مال وجاہ کے سبب ریاکاری کرنا،باہم فخر کرنا،ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا اور تکبُّر کرنا اور یہ چیزیں بغض وعداوت اور حسد و کینہ کے اِرتِکاب کی طرف بلاتی ہیں اور آدمی کو بےحیائی، برائی اور سرکشی کی حد تک لے جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ معدہ کے معاملے میں لاپروائی و غفلت برتنے اور پیٹ بھرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والےتکبرسے بے توجُّہی کا نتیجہ ہے۔ اگر بندہ بھوک کے ذریعے اپنے نفس کو ذلیل کرے اور شیطان کے راستوں کو تنگ کردے تو ضرور اس کا نفس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت وفرمانبرداری کے لئے آمادہ ہو جائے اور غرور و تکبر اور سرکشی کے راستے پر نہ چلے، دنیا میں مُنْہَمِک نہ ہو اور آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح نہ دے اور نہ ہی دنیا کی حرص رکھتے ہوئے اس پر مکمل طور پر ٹوٹ پڑے۔
جب پیٹ کی خواہش کی آفت اس حد تک بڑی اور سنگین ہے تو اس سےبچنے کے لئےاس کےنقصانات وآفات کی وضاحت وتفصیل ضروری ہے اور اس کے لئے مجاہدہ کے طریقے کی وضاحت اور ترغیب کے لئےاس کی فضیلت پر آگاہی بھی ضروری ہے۔ اسی طرح شرمگاہ کی شہوت کی وضاحت وتفصیل بھی ضروری ہے کیونکہ یہ پیٹ کی خواہش کے تابع ہے۔
ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی توفیق سے مختلف فصلوں میں ان چیزوں کی وضاحت کریں گے جن میں بھوک کی فضیلت، اس کے فوائد، کم اورتاخیر سے کھانے کے ذریعے پیٹ کی خواہش کو توڑنے میں ریاضت کے طریقے ذکر کئے جائیں گے پھر لوگوں کے احوال مختلف ہونے کی وجہ سے بھوک اور اس کی فضیلت کے حکم میں اختلاف کا بیان ہوگا پھر ترکِ خواہش کے سلسلے میں ریاضت کا بیان، پھر شرمگاہ کی شہوت کے متعلق کلام ہوگا اور پھر ان چیزوں کا بیان ہوگا جو نکاح کرنے اور نہ کرنے کے معاملے میں راہِ آخرت کے مسافر پر لازم ہیں اور پھر ان حضرات کی فضیلت کا بیان ہو گا جنہوں نے پیٹ ، شرم گاہ اور آنکھ کی خواہش کی مخالفت کی۔
﴿ صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد ﴾
﴿ تُوْبُوْااِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُاللہ ﴾
﴿ صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد ﴾