Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
243 - 1245
	اور اس کے معزّزبندے اور عالی مَرتَبَت رسول حضرت محمدمصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ايسا درود ہو جو اُنہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےمزید قریب کرےاورآپ کے مقام و مرتبے کو بُلند کرے نیز آپ  کی نیک اولاد اور قریبی رشتہ داروں اورنیک  وپرہیزگارصحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناورآپ کی سنّتوں پر چلنے والوں پربھی درودہو۔
	ابْنِ آدم کو ہلاک کرنے والی چیزوں میں سب سے بڑی چیز پیٹ  کی خواہش ہے اسی کی وجہ سے حضرت آدم و حوا عَلَیْہِمَا السَّلَام کوجنت سے اس دنیا کی طرف بھیجا گیاجو ذِلَّت و محتا جی کا گھرہے کیو نکہ انہیں درخت کا پھل کھانے سے منع کیا گیا لیکن وہ وسوسے کا شکار ہو گئے اوران پرپیٹ  کی خواہش غالِب آئی حَتّٰی کہ ان دونوں نے اس سے کھا لیا اوراُن پراُن کی شرم کی چیزیں کھل گئیں۔(1)
	پیٹ حقیقت میں خواہشات وآفات کامَنْبَعومرکزہے کیونکہ پیٹ کی خواہش پوری ہونے کے بعد عورتوں کی خواہش ہوتی ہے اور شرم گاہ میں شدیدہیجان وجوش پیدا ہوجاتا ہےپھر کھانے اور نکاح کی خواہش کے بعد جاہ ومنصب ا ورمال ودولت جو کہ بیویوں اور غذاؤں میں اضافے ووسعت کا ذریعہ ہیں ان کی طرف میلان و رغبت میں شدت پیدا ہو جاتی ہے۔مال و جاہ میں کثرت کی خواہش سے مختلف برائیاں پیدا ہوتی ہیں 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… حضرت آدم اور حضرت حواء عَلَیْہِمَاالسَّلَامنہایت ہی آرام اور چین کے ساتھ جنت میں رہتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے فرما دیا تھا کہ جنت کا جو پھل بھی چاہو بے روک ٹوک سیر ہو کر تم دونوں کھا سکتے ہو۔ مگر صرف ایک درخت کا پھل کھانے کی ممانعت تھی کہ اس کے قریب مت جانا۔ وہ درخت گیہوں تھا یا انگور وغیرہ تھا۔ چنانچہ دونوں اس درخت سے مدت دراز تک بچتے رہے۔ لیکن ان دونوں کا دشمن ابلیس برابر تاک میں لگا رہا۔ آخر اس نے ایک دن اپنا وسوسہ ڈال ہی دیا اور قسم کھا کر کہنے لگا کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں اور اللہ تعالیٰ نے جس درخت سے تم دونوں کو منع کردیا ہے وہ”شَجَرَۃُ الْخُلْد“ہے یعنی جو اس درخت کا پھل کھائے گا وہ کبھی جنّت سے نہیں نکالا جائے گا۔ پہلے حضرت حوا عَلَیْہَا السَّلَاماس شیطانی وسوسہ کا شکار ہوگئیں اور انہوں نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو بھی اس پر راضی کرلیا اور وہ ناگہاں غیر ارادی طور پر اس درخت کا پھل کھاگئے۔ آپ نے اپنے اجتہاد سے یہ سمجھ لیا کہ وَلَا تَقْرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ (پ۱،البقرة:۳۵)کی نہی تنزیہی ہے اور واقعی ہرگز ہرگز نہی تحریمی نہیں تھی ورنہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نبی ہوتے ہوئے ہرگز ہرگز اس درخت کا پھل نہ کھاتے کیونکہ نبی تو ہر گناہ سے معصوم ہوتا ہے بہرحال حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَامسے اس سلسلے میں اجتہادی خطا سرزد ہوگئی اور اجتہادی خطا معصیت نہیں ہوتی۔لیکن حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام چونکہ دربارِ الٰہی میں بہت مقرّب اور بڑے بڑے درجات پر فائز تھے اس لئے اس اجتہادی خطا پر بھی موردِ عتاب ہو گئے۔ فوراً ہی بِہِشتی لباس دونوں کے بدن سے گر پڑے اور یہ دونوں جنّت کے پتوں سے اپنا ستر چھپانے لگے، اور خداوند قُدوس کا حکم ہو گیاکہ تم دونوں جنت سے زمین پر اتر پڑو۔ (عجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص۲۷۱،۲۷۲)