Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
242 - 1245
پیٹ اور شرم گاہ کی شہوت ختم کرنے کا بیان
(اس میں ایک مقدمہ اور دو باب ہیں )
مقدمہ:
	تمام تعریفیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے ہیں جو عظمت ورِفْعَت کے لحاظ سے اپنی بزرگی میں یکتاہےاوروہی  اس بات کامُسْتَحِقْ ہے کہ اس کی حمد وپاکی بیان کی جائے۔ وہ حکم لگانے اور فیصلہ کرنےمیں عدل و انصاف کو قائم کرنے والا اور انعامات و عطیات میں فضل وکرم فرمانے والا ہے۔ وہی ہر مقام پراپنے بندے کی حفاظت کا کفیل ہے۔ وہی اپنے بندےکو اس کی ضرورتوں سے زیادہ عطا کرتا ہے بلکہ اس کی آرزوؤں اور خواہشوں تک کو پورا کرکے اسےنوازتا ہے۔وہی ہے جو اپنے بندے کی رہنمائی فرماتا اور اسے ہدایت دیتا ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندے کو موت دیتا ہے پھر اسے زندہ کرےگا۔ جب بندہ بیمار ہوجاتا ہے تو وہ اسے شِفا دیتا ہے اور جب بندہ کمزور ہوجاتا ہے تو وہی قوت عطا فرماتا ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندے کو عبادت کی توفیق دے کر اسے اپنا پسندیدہ بنا لیتا ہے۔ وہی ہے جو اسے کھلاتا، پلاتا، ہلاکت سے محفوط رکھتا، دشمنوں سے بچاتا اور غذا اور مشروب کے ذریعے ہلاک کردینے والی چیزوں سے اس کی حفاظت فرماتا ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندے کو قلیل غذا پر قناعت کرنے کی قدرت عطا فرماکر بھی اس کی طاقت وقوت کو برقرار رکھتا ہے حتّٰی کہ معمولی غذاپر قناعت کے سبب اس کے دشمن شیطان کے راستے تنگ ہوجاتے ہیں اور نفس کا زور ٹوٹ جاتا اور اس کا شر دور ہوجاتا ہے پھر بندہ دل جمعی کے ساتھ اپنے ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبا دت کرتا ہے اوردل میں اس کا خوف رکھتا ہے۔یہ سب کچھ اس وقت ہوتا ہے جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بندے کو لذیذ اور من پسند چیزوں کی اَنواع واَقسام سے مالامال فرماتا ہے اور اس پر ان چیزوں کی کثرت فرمادیتا ہے جو اسباب ِلذات میں جوش وحرکت پیدا کرتی اور انہیں پختہ و مضبوط کرتی ہیں اور ان تمام چیزوں کے ذریعے بندے کا امتحان لیتا اور اسے آزماتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کیسے وہ اپنی خواہشات پرقلیل غذاکو اختیارکرتا ہے؟ اس کےاحکامات کی کیسے حفاظت کرتاہے؟ ممنوعات کے ارتکاب سے کیسے رکتا ہے؟ اور اس کی طاعت و عبادت پر کیسے ہمیشگی اختیار کرتا ہے؟نیز گناہوں سے کیسے باز آتا ہے؟