طریقہ تھاتفصیلی طریقہ آگے آئے گا۔انسان پر سب سے غالب صفات پیٹ ،شرم گاہ اور زبان سے متعلق خواہشات ہیں پھر غصہ ہے جوخواہشات کی حمایت میں لشکر کی مانند ہے۔جب انسان پیٹ اور شرم گاہ کی خواہش کی چاہت رکھتاہے اور اس سے اُنْسِیَّت حاصل کرتاہے تو وہ دنیا کی محبت میں گرفتار ہوجاتاہےاور پیٹ اور شرم گاہ کی خواہش کا حصول مال اور جاہ ومنصب کے سبب ہوتاہےاور جب انسان مال اورجاہ ومنصب کی طلب کرتاہے تو اس کے سبب اس میں تکبُّر،خودپسندی اورحُصُولِ رِیاست کی چاہت پیدا ہوجاتی ہےاور جب یہ چیز ظاہر ہوجاتی ہے تو اس کا نفس دنیا چھوڑنےکو بالکل تیار نہیں ہوتااور وہ دین میں بھی وہی چیز اختیار کرتاہے جس کے سبب اسے رِیاست کاحُصُول ہواور غرور وتکبُّر اس میں پایا جائے۔
لہٰذا ہم پر ضروری ہے کہ پہلے ان دوابواب(عجائباتِ قَلْب اوررِیاضَتِ نَفْس) کو بیان کرنے کے بعد مُہْلِکات (ہلاکت میں ڈالنے والے اُمور)کی بحث کوان آٹھ ابواب پر ختم کریں:(۱)…پیٹ اور شرم گاہ کی شہوت ختم کرنے کا بیان۔(۲)…زبان کی آفات کا بیان۔(۳)…غصہ، کینہ اورحسد کی مذمت کا بیان۔(۴)…دنیا کی مذمت کا بیان۔(۵)…مال کی محبت اور بخل کی مذمت کابیان۔(۶)…حُبِّ جاہ اور ریاکاری کی مذمت کا بیان۔ (۷)…تکبر اور خود پسند ی کی مذمت کا بیان۔ (۸)…غرور کی مذمت کا بیان۔
انمُہْلِکات کے ذکر اور ان کے علاج کے طریقے کوبیان کرنے سےاِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمارا مقصد پورا ہوجائےگا۔ پہلے باب میں ہم نےقلبی صفات کی تشریح بیان کی ہےکیونکہ انسانی دل مُہْلِکات ومُنْجِیات (نجات دلانے والے اُمور)دونوں کا مرکز ہے جبکہ دوسرے باب میں اَخلاق کو سنوارنے اور اَمراضِ قلب کے عِلاج کی طرف اِشارہ کیا ہےاور اس کی تفصیل اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّباقی دیگر آٹھ ابواب کے تحت آئے گی۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہ!اللہ عَزَّوَجَلَّکے فضل وکرم سے’’رِیاضَتِ نَفْس کا بیان‘‘ مکمل ہوا
٭…٭…٭…٭…٭