وسوسہ بھی ڈالتا ہےتیرا یہ عمل غافلوں کے دل زندہ کردے گااور تو لوگوں کے درمیان ایک واسطے کی مانند ہے جو انہیں رب تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاتاہے ۔اس میں نہ تو کوئی تیرا حصہ ہے اور نہ ہی تیرے نفس کے لئے کوئی لذت ہے۔ایسی صورت میں شیطانی فریب اس وقت واضح ہوتاہے جب سالِک (راہِ سُلُوک طے کرنے والے)کا کوئی ہم عَصْر لوگوں میں سب سے اچھا کلا م کرنے والا اور عمدہ الفاظ استعمال کرنے والا اور عوام کے دلوں کو سب سے زیادہ اپنی جانب مائل کرنے والا ہو۔اب اگر سالِک کے دل میں حسد کی آگ بھڑکے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کے دل میں عوامی مقبولیت کا مکروفریب اثر انداز ہےکیونکہ اگر اس کامقصد نیک ہوتاتو وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں کو صراطِ مستقیم کی طرف دعوت دینےکا حریص ہوتاہےاور اس میں خوشی محسوس کرتا اور یہ کہتا: تمام تعریفیں اس ربُّ العٰلمین کے لئے ہیں جس نے اپنے بندوں کی اصلاح کے لئے میرا انتخاب کیااور مجھے اس کی طاقت بخشی۔ایسا شخص اس آدمی کی طرح ہے جو کسی لاوارث میت کو پاتا ہے اور اس کے دفن کی ذمہ دار اس پر ہوتی ہے اسی دوران کوئی شخص اس کی مدد کے لئے پہنچ جاتاہےتو اسے دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتاہے حسد میں مبتلا نہیں ہوتا،لہٰذاغافل لوگوں کے دل مردہ ہیں واعظین (یعنی نصیحت آموز بیان کرنے والے)انہیں بیدار اور زندہ کرتے ہیں تو ان کی کثرت ایک دوسرے کے لئے باعثِ فرحت و مُعاوَنَت ہونی چاہئےجبکہ ایسا کم ہے،لہٰذا مرید کو اس سے بچنا چاہئےکہ یہ شیطان کے بڑے جالوں میں سے ایک جال ہےجس کے ذریعے وہ ان لوگوں کا راستہ روکتا ہے جن پر معرفت کا کچھ راستہ کھلتاہےکیونکہ دنیاکی زندگی کو ترجیح دینا انسانی طبیعت پر غالب ہوتاہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآن مجید میں ارشادفرماتاہے:
بَلْ تُؤْثِرُوۡنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا﴿۱۶﴾۫ۖ (پ۳۰،الاعلٰی:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان: بلکہ تم جیتی دنیا کو ترجیح دیتے ہو۔
پھراللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بیان فرمایاکہ شر طبیعتوں میں پہلے سے چلا آرہا ہےاور یہ بات پچھلی آسمانی کتابوں میں بھی مذکور ہےجیساکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے:
اِنَّ ہٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوۡلٰی ﴿ۙ۱۸﴾ صُحُفِ اِبْرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی ﴿٪۱۹﴾ (پ۳۰،الاعلٰی:۱۸،۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک یہ اگلے صحیفوں میں ہے ابراہیم اور موسٰی کے صحیفوں میں۔
یہاں تک جو بیان ہوا ہے یہ مرید کی رِیاضت اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملا قات کے سلسلے میں بتدریج تربیت کا