Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
24 - 1245
	دوسری مثال:جان لیجئے کہ انسانی جسم شہر کی مانند ہے اور عقل یعنی ربانی لطیفہ اس شہر کا نظام چلانے والے حاکم کی مثل اورجسم کے ظاہری و باطنی حواس گویااس کی جماعت اورمددگار ہیں اور اعضاء گویا اس کی رعایا ہیں  اور نفس اَمّارہ یعنی خواہش اور غصہ کو ابھارنے والی قوت اس کے دشمنوں کی طرح ہے جو اس کی رعایا میں فساد پھیلانے اور انہیں ہلاک کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتی ہے۔ گویا انسان کا جسم قلعے اور سرحد کی مانندجبکہ دل یعنی ربانی لطیفہ اس کا محافظ ہے اگر وہ اپنے دشمن سے جہاد کرے اسے بری طرح شکست دے کر اس پر غلبہ پالے تو دربارالٰہی میں اس کی تعریف کی جائے گی۔ جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جہاد کرنے والے کے متعلق ارشاد فرماتا ہے:
فَضَّلَ اللہُ الْمُجٰہِدِیۡنَ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنۡفُسِہِمْ عَلَی الْقٰعِدِیۡنَ دَرَجَۃً ؕ  (پ۵،النسآء:۹۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد والوں کا درجہ بیٹھنے والوں سے بڑا کیا۔
	اور اگر وہ اپنی سلطنت کو ضائع کردے اور رعایا کوبےآسرا چھوڑ دے تو اس کی مذمت کی جائے گی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے مواخذہ فرمائے گا۔چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ کل بروزقیامت اس سے کہا جائے گا: ”اے بدبخت حاکم! تو نے گوشت کھایا، دودھ پیا لیکن گمشدہ کو تلاش نہ کیا اور ٹوٹے ہوئے کو جوڑنے کی کوشش نہ کی، آج میں تجھ سے حساب لوں گا۔‘‘(1)
	نیز حُضُورنبیّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےمجاہدۂ نفس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: رَجَعْنَا مِنَ الْجِھَادِ الْاَصْغَرِ اِلَی الْجِھَادِ الْاَ  کْبَر یعنی ہم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف لوٹ آئے۔(2)
	تیسری مثال: عقل کی مثال شکار کرنے والے گھڑسو ار کی سی ہے، خواہش گھوڑے اور غصہ کتے کی طرح ہے۔ جب شکاری ماہروتجربہ کار، گھوڑا ہوشیار اور کتا سدھایا ہوا ہو تو شکاری ضرور کامیاب ہوگا اور اگر شکاری خود ناتجربہ کار، گھوڑا سرکش اور کتا پاگل ہو تو نہ گھوڑا اس سے سیدھا چلے گا اور نہ ہی کتا اس کے اشارے پر دوڑے گا، ایسی صورت میں شکار کرنا تو ممکن نہیں ہاں ہلاکت کے امکانات ضرور ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… الزهدللامام احمدبن حنبل،زهدمحمدبن سيرين،ص۳۲۸، حديث:۱۹۰۳ ملتقطًا
2…الزهدالکبير،الجزء الثانی،ص۱۶۸، حديث:۳۷۳ بتغیر