کے ساتھ لگا رہے۔ فرمایا:تم مخلوق کی طرف مت دیکھو کہ تمہارا مخلوق کی طرف دیکھنا تاریکی ہے۔ میں نے کہا: میرا اس کے بغیر گزارہ نہیں۔ فرمایا:ان کا کلام نہ سنو کہ ان کا کلام دل کی سختی کا باعث ہے۔ میں نے کہا :اس بغیر بھی میرا چارہ نہیں۔ فرمایا:پھر ان سے معاملات نہ رکھو کہ ان سے معاملات رکھنا وحشت کا باعث ہے۔ میں نے کہا: میں تو ان کے درمیان ہوتاہوں اور مجھے ان سے معاملات کرنے پڑتے ہیں۔فرمایا:تو پھر ان کے ساتھ سُکُونت(رہائش) نہ رکھو کہ ان کے ساتھ سکونت رکھنا ہلاکت کا باعث ہے۔ میں نے کہا :ان کے درمِیان سُکُونت رکھنے کی کوئی وجہ ہے۔یہ سن کر انہوں نےفرمایا:اے شخص !تم غافل لوگوں کی طرف دیکھتے،جاہلوں کا کلام سنتےاور باطل لوگوں کے ساتھ معاملات رکھتے ہو اس کے ساتھ تم یہ بھی چاہتے ہوکہ تمہارا دلاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ لگا رہےایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔
رِیاضت کی اِنتہا:
ریاضت کی اِنتہا یہ ہے کہ دل ہمیشہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ لگا رہےاور یہ چیز بغیر گوشہ نشینی کے ممکن نہیں اور گوشہ نشینی بغیرطویل مجاہدے کےممکن نہیں۔جب مرید کا دلاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ لگا رہے گاتو اس کے لئے رب تعالیٰ کا جلا ل اور تجلیٔ حق منکشف ہوجائےگی نیز اس کے لئےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ایسےلطائف ظاہر ہوں گے جنہیں بیان نہیں کیا جاسکتا بلکہ کسی ایک وصف کا بھی مکمل احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔
شیطانی وسوسہ:
جب مرید کے لئے کوئی بات منکشف ہوجاتی ہے تو اس کے لئے سب سے بڑا راہ زن وہی بات ہوتی ہے جسے وہ بعد میں وعظ ونصیحت میں بیان کرنے لگتاہےاور لوگوں کے درمیان اس کے ذکر کرنے کے درپے ہوتاہے۔ اس میں وہ ایسی لذت پاتا ہے جس سے بڑھ کر اسے کوئی لذ ت محسوس نہیں ہوتی۔وہ لذت اسےیہ بات سوچنے کی طرف لے جاتی ہے کہ وہ کس طرح ان معانی اور الفاظ کی خوبصورتی کو تعبیر کرے، کس ترتیب کے ساتھ ذکر کرے، کس طرح حکایات اور قرآن وحدیث کے شواہد کی روشنی میں اسے مُزَیَّن کرے اور کلام میں کیسا حسن لائے جس کے باعث لوگوں کے دل اور کان اس کی طرف متوجہ ہوں۔بسا اوقات شیطان اس کے دل میں یہ