ہے جس سے نجات پاگیاتو دِین کے بادشاہوں میں سے ہے اوراگر خطا کرگیاتو ہلاک ہونے والوں میں سے ہےاسی وجہ سے مروی ہےکہعَلَیْکُمْ بِدِیْنِ الْعَجَآئِزِیعنی تم بوڑھی عورتوں کی طرح دین کو اختیار کرو۔(1)
مطلب یہ ہے کہ ایمانیات اور اِعتقادیات میں بزرگانِ دین کی پیروی کرےاور نیک اَعمال بجا لائے کیونکہ اس سے روگردانی میں بہت خطرہ ہے۔اسی وجہ سے کہا گیا کہ مرشد اپنے نورِفراست سے مرید کا حال معلوم کرےکہ اگر وہ ذہین وفَطِین نہ ہو اور ظاہرِاِعتقاد پراسے پختگی نہ ہو تو ذکر وفکر میں مشغول کرنےکے بجائے اسے ظاہر ی اَعمال اور متواتر اَوْراد کا حکم دےیا پھر اسے ان کی خدمت پر مامور کردے جو ذکر وفکر میں مشغول ہیں تاکہ ان کی برکت اسے بھی شامل حال رہےجیسے کوئی شخص جہاد میں لڑنے سے عاجز ہو تو اسے چاہئے کہ وہ مجاہدین کو پانی پلائے اور ان کی سواریوں کی حفاظت کرے تاکہ بروزِقیامت وہ بھی ان کےزُمْرے میں شامل ہواور ان کی برکت سےاسے بھی حصہ پہنچےاگر چہ وہ ایسا کرنے سے ان کے درجات کو نہیں پہنچ سکتا۔
مرید جو ذکروفکر کےلئے گوشہ نشینی اختیار کرتاہے اس کے سامنے بہت سے راہ زن آتے ہیں جیسے خود پسندی،ریاکاری اور اس پر جو اَحوال منکشف ہوتےہیں اور شروع میں جوکرامات ظاہر ہوتی ہیں ان پر خوشی وغیرہ۔ وہ جب بھی ان میں سے کسی کی طر ف راغب ہوگا اور اپنے نفس کواس میں مشغول کرے گاتو وہ چیز اس کی راہ میں رکاوٹ بنے گی،لہٰذا مریدکو چاہئےکہ تمام عُمْر اپنا حال اس شخص کی طرح رکھے جو ہمیشہ پیاس میں مبتلا رہتا ہے کہ اگر دریاؤں کو بھی اس پر بہا دیا جائے تب بھی سیراب نہ ہو،لہٰذااس کا اصل سرمایہ یہ ہے کہ مخلوق سے تعلُّق توڑ کر حق اور گوشہ نشینی کی طرف جائے۔
دل ہمیشہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ کیسےلگا رہے؟
ایک سَیَاح(سیروسیاحت کرنے والے)بُزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے منقول ہے کہ میں نے ایک اَبدال سے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا،عرض کی:حقیقت کی راہ کس طرح ہے؟فرمایا:تیرا دنیا میں رہنا ایک مسافِر کی طرح ہو۔ ایک مرتبہ میں نے ان سے عرض کی: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے کہ میرا دل ہمیشہاللہ عَزَّ وَجَلَّ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المقاصد الحسنة، حرف العین المھملة ، ص ۲۹۷، حدیث:۷۱۴ (فیہ : لا اصل لہ بھذا اللفظ)