اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا فَاِذَا ہُمۡ مُّبْصِرُوۡنَ ﴿۲۰۱﴾ۚ (پ۹،الاعراف:۲۰۱) ترجمۂ کنز الایمان: بے شک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیار ہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
٭…دوسری قسم:وہ وسوسہ جس کے متعلق شک ہو۔ ایسے وسوسے کی صورت میں اسے چاہئے کہ اپنے مرشد کو اس سے مطلع کرےبلکہ اپنے دل میں جو بھی اَحوال پائےچاہے سُستی ہو یاچُستی یا کسی طرف اِلتفات یا اِرادت میں صدق، مرشد کو ضرور اس سے مطلع کرے،ہاں!دوسروں سے ضرور چھپائےکہ کسی کو اس پر مطلع نہ ہونے دے۔
مُرشدکب مرید کوغوروفکر کا کہے اور کب نہیں؟
وسوسوں سے چھٹکارے کے بعد مرشدمریدکی ذہانت اور عقل مندی پر غور کرے اگردیکھے کہ مرید کو اگر اس کی حالت پر چھوڑ دیا جائےاور غور وفکر کی اجازت دی جائے تو اس پر حق کی حقیقت واضح ہوجائے گی تو اب مرشد کو چاہئے کہ مرید کو غوروفکر کا کہےاور اس پر ہمیشگی اختیار کرنے کا حکم دےیہاں تک کہ اس کے قلب میں نور ڈال دیا جائےجو حقیقت کو اس پر منکشف کردےاوراگریہ دیکھے کہ مرید غوروفکر کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے ایسے کسی یقینی عمل کی طرف پھیر دے جسے اس کا دل برداشت کرسکے، مثلاً:اسے وعظ ونصیحت کرے اورذکر کی تلقین کاکہےنیزاسے ایسی دلیل سےسمجھائے جو فہم کے قریب ہو۔
مرشد مرید کے ساتھ کیسا رویہ رکھے؟
مرشد کو چاہئے کہ وہ مریدکے ساتھ دانش مندانہ رویہ رکھے اور نرمی کا برتاؤ کرےکیونکہ یہ راستہ ہلاکتوں اور خطروں سے پُر ہےکتنے ہی مرید ایسے ہیں جو رِیاضت میں مشغول ہوتے ہیں تو اُن پر فاسد خیال کا غَلَبہ ہوجاتاہے جسے وہ دور نہیں کرپاتےجس کے باعث وہ راہِ سُلُوک سے ہٹ کر باطل میں مشغول ہوجاتے اور اِباحت کی راہ پر چل پڑتے ہیں اور یہ سب سے بڑی ہلاکت ہےاورجو صرف ذکر میں مشغول ہو اور جو مشاغِل اس کے قلب کو مشغول رکھتے ہیں دل کو ان سے دور رکھے وہ بھی اس قسم کے اَفکا ر سے خالی نہ ہوگاکیونکہ وہ پُرخطر کشتی میں سوار