ہوگاجو کہ مقصود ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ ہر چیز سے فارغ ہوجائےگا۔اس وقت مریدپر لازم ہے کہ وہ وسوسوں اور دنیاوی خیالات سے دل کی حفاظت کرےاپنے یاپرائےکے جو اَحوال گزر چکے ہیں ان میں دل کو تھوڑی دیر کے لئے بھی مشغول نہ ہونے دےکیونکہ لمحہ بھر بھی اگر اس کا دل مشغول ہوگا تودل اس لمحےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد سے غافل ہوگااور یہ نقصان کا باعث ہے، لہٰذا اسے دور کرنے کی کوشش کرے۔
جب وہ تمام وسوسوں کو دور کرکے دل کو اس ذکرکی طرف پھیر دے گا(جس کی مرشد نے اسے تلقین کی ہے) تو اب ذکر کی طرف سے اسے وسوسے آئیں گےکہ یہ ذکر کیاہے؟اللہ،اللہ کہنے کا کیامطلب؟کس معنیٰ کی وجہ سے وہ الٰہ اور معبودہے؟اس وقت اسےایسے خیالات بھی آئیں گے جو اس پر فکروسوچ کا دروازہ کھولیں گے اور بسا اوقات وہ ایسے وسوسوں کا بھی شکار ہوگا جو صریح کفر اور بدعتِ سیئہ(بُری بدعت) ہوں گےلیکن جب وہ ان وسوسوں کو بُراخیال کرے گااور دل سے انہیں دور کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ وسوسے اسے نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
وسوسے کی اقسام:
وسوسے کی دو قسمیں ہیں :
٭…پہلی قسم:وہ وسوسہ جس کے بارے میں قطعی طور پر معلوم ہو کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے پاک ہےلیکن شیطان اس کے قلب میں یہ وسوسہ ڈال دیتا اور اس کے دل پر جاری کردیتاہے۔ اس میں شرط یہ ہے کہ وہ اس کی پروا نہ کرےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر میں مشغو ل ہوجائے نیزاللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ مانگے تاکہ وہ اس وسوسے کو دور کردے جیساکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:
وَ اِمَّا یَنۡزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیۡطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ ؕ اِنَّہٗ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۰۰﴾(پ۹،الاعراف:۲۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اے سننے والے اگر شیطان تجھے کوئی کو نچادے(کسی بُرے کام پر اُکسائے)تو اللہ کی پناہ مانگ بیشک وہی سنتا جانتا ہے۔
ایک مقام پر ارشاد فرماتا ہے: