بلکہ اسے صرف فرائض اور سُنَّتِ مُؤ َ کَّدَہ پر اِکتفا کرائے، لہٰذا مرید کے لئے ایک ہی وردہوگا جو تما م اوراد کا خلاصہ ونتیجہ ہے یعنی دل کواللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکرمیں ہمیشہ کے لئے مشغول کرنا جبکہ وہ غیر کے ذکر سے خالی ہواور جب تک اس کا دل غیر کی طرف متوجہ رہے مرشداسے اس وظیفے میں مشغول نہ کرے۔
حکایت:تربیتِ مرید کا ایک انداز
حضرت سیِّدُناابوبکر شِبْلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینے اپنےمریدحضرت سیِّدُناابو الحسن علی بن ابراہیم حُصْری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسےفرمایا:اگراس جمعہ سے لے کراگلے جمعہ تک تمہارے دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ کسی چیز کا خیال آیا تو آئندہ میرے پاس نہ آنا۔
گوشہ نشینی اور ذکر کی تلقین:
گوشہ نشینی اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک ارادے میں سچائی اور دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت غالب نہ ہوحتّٰی کہ وہ اس پریشان حال عاشق کی طرح ہوجائےجسے ایک ہی غم لگا رہتا ہے جب یہ صورت ہوجائے گی تو مرشد اسے ایک کونے میں تنہا بیٹھنے کا پابند کرے اور کسی کی ذمہ داری لگائے گا جو اسے تھوڑی مقدار میں حلا ل غذا پہنچانے کا بندوبست کرےکیونکہ رزق حلال اصل دِین میں سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مرشد اسےکسی ذکر کی بھی تلقین کرے یہاں تک کے دل اورزبان دونوں ذکر میں مشغول ہوجائیں، مثلاً: اسے اللہ،اللہ کی تکرار کرنےیاسُبْحٰنَ اللہ،سُبْحٰنَاللہکہنے کا کہےیا پھرمرشد اس کے علاوہ جو مناسب سمجھے اس کی تلقین کرے اور ذکر میں اسے اس قدر مصروف رکھے کہ ذکر اس کی زبان پربغیر زبان کی حرکت کے جاری ہونے لگے،یوں اسے ذکر کراتا رہے یہاں تک کہ زبان سے بھی اس کا اثر ختم ہوجائے اور صرف قلب میں اس کی لفظی صور ت باقی رہ جائے پھر اسی طرح اسے ذکر کراتارہے یہاں تک کہ قلب سے اس کی لفظی صورت بھی ختم ہوجائے صرف اس کے معنیٰ کی حقیقت دل پر باقی رہ جائے جو اسے لازم وحاضر ہواور اس کے دل پر اس کا غَلَبہ ہونیز اس کا دلاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سواہر چیز سے فارغ ہوجائے کیونکہ دل جب ایک چیز میں مشغول ہوتا ہے تو دوسری چیز سے فارغ ہوجاتاہے تو جب دلاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر میں مشغول