کی رَبُوبِیَّت کے جلال کا مشاہدہ کرے گا۔ سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماسی حالت میں تھے کہ رب تعالیٰ نے انہیںیٰۤاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ ۙ﴿۱﴾ (پ۲۹،المزمل:۱،ترجمۂ کنزالایمان:اےجھرمٹ مارنے والے)اور یٰۤاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾ (پ۲۹، المدثر:۱، ترجمۂ کنز الایمان:اےبالا پوش اوڑھنے والے)کہہ کر پکارا ۔ (1)
راہِ سُلو ک میں مرید کا بتدریج ترقی کرنا:
معلوم ہواکہ یہ چار باتیں ڈھال اور قلعہ ہیں جن کے ذریعے ڈاکوؤں اور لٹیروں سے محفوظ رہا جاتا ہے اور راہ زنی کے عوارض سے بچا جاتاہے۔جب مرید ان چار باتوں پر عمل کرلے گا تو اب وہ راہِ سُلُوک طے کرنے میں مشغول ہوگااور راہِ سُلُوک گھاٹیوں کو عُبُور کئے بغیرطےنہیں کیاجاسکتااور یہ گھاٹیاں دل کی صفات ہیں جو دنیا کی طرف متوجہ ہونے کا سبَب ہیں۔ ان میں سے بعض گھاٹیاں بعض سے بڑھ کر ہیں ،انہیں طے کرنے کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے جو زیادہ آسان ہے اسے طے کرے پھر جو اس کے مقابلے میں کم آسان ہو اسے طے کرے۔ یہ گھاٹیاں اُن اُمور کے اَسراروصفات ہیں جنہیں مرید نے ارادت کے شروع میں طے کیا تھایعنی مال، جاہ ومنزلت، دنیا کی محبت اور مخلوق کی طرف التفات اور گناہوں کی رغبت،لہٰذا اسے چاہئے کہ اپنے باطن کو ان صفات سے اسی طرح خالی کرے جس طرح اس نےظاہر کو ظاہری اَسباب سے خالی کیاتھااور اس سلسلے میں اسے طویل مجاہدے کی حاجت ہوتی ہےجو کہ(مریدوں کے) اَحوال کے اِختِلاف کی وجہ سے مختلف ہوتا ہے اور کتنے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کئی اچھی صفات سے مُتَّصِف ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں طویل مجاہدے کی حاجت نہیں ہوتی۔ہم اس بات کو پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ شہوتوں اور خواہِشات کے خلاف مجاہدے کی راہ اختیار کرنا ہر اس صفت میں ہوتا ہے جو مرید کے نفس پر غالب ہوتی ہے،لہٰذامرید جب شہوت سے محفوظ ہوجائے یا مجاہدے سے اس کی شہوت کمزور پڑ جائے اور اس کے دل میں کوئی ایسی چیز باقی نہ رہے جو اس کے قلب کو مشغول کرےتو اس صورت میں مرشد کو چاہئے کہ وہ مرید کو ایسے ذکر میں مشغول کرے جو اس کے ساتھ ہمیشہ رہے اور اسے ظاہری اوراد کی کثرت سے منع کردے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم، کتاب الایمان ، باب بدء الوحی الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،ص۹۶، حدیث : ۱۶۱
الشفاء بتعریف حقوق المصطفی،الباب الاول فیما یختص بالامور الدینية....الخ،فصل فی حکم عقد النبی،۲/ ۱۰۴