بھوک ہی کے سبَب ہوتی ہے کہ سیر ہوکر کھانے کی صورت میں شب بیداری ممکن نہیں،نیند دل کو سخت اور مردہ کردیتی ہے مگر یہ کہ جب وہ بقدرِضرورت ہو کہ ایسی نیند قلب کی سختی کاباعث نہیں بلکہ اَسرار غَیْبِیَّہ پر کَشْف کا سبَب ہےاسی وجہ سے اَبدال کی صفات میں کہاگیا کہ ان کا کھانا بھوک کے وقت ،نیند غَلَبہ کی صورت میں اور کلام ضرورت کے وقت ہوتاہے۔حضرت سیِّدُناابراہیم خَوَّاصعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاقفرماتے ہیں:70 صِدِّیْقِیْن کے نزدیک نیند کی کثرت زیادہ پانی پینے کے سبَب ہوتی ہے۔
﴿3﴾…خاموشی:
گوشہ نشینی اور خلوت خاموشی کو آسان بنا دیتی ہےلیکن گوشہ نشین شخص اسے دیکھنے سے بچ نہیں سکتا جو اس کے کھانے ،پینے اور دیگر معاملات کا انتظام کرتاہےتو اسے چاہئے کہ ضرورت کے مطابق ہی اس سے گفتگوکرے کہ زیادہ گفتگو دل کو مشغول کرتی ہےاوردل کا گفتگو کی طرف حریص ہونابہت بڑا خطرہ ہے کیونکہ دل اس سے راحت محسوس کرے گا اور ذکر وفکرکے لئے گوشہ نشینی کوبوجھ خیال کرے گا۔
٭…فائدہ:خاموشی عقل کوبڑھاتی اور تقوٰی وپرہیز گاری پیدا کرتی ہے۔
﴿4﴾…گوشہ نشینی:
گوشہ نشینی کے سبَب مشاغل دور ہوتے ہیں اور آنکھ اور کان کی حفاظت ہوتی ہے اور یہ دونوں(یعنی آنکھ وکان) قلب کی دہلیزہیں اور دل حوض کی مانند ہے جس میں حواس کی نہروں سے گندہ اور ناپاک پانی آکر گرتاہے اور رِیاضت کا مقصد اس گندے پانی اور اس کے کیچڑ سے حوض کو پاک کرنااور حوض کو کھودتے کھودتے اس کی گہرائی تک جانا ہےتاکہ اس سےصاف و شفاف پانی نکلےاور یہ بات ممکن نہیں کہ حوض اور نہروں کو خالی کیا جائے جبکہ ان میں پانی جاری ہو کیونکہ جس قدر پانی نکالیں گے اس سےزیادہ پانی اس میں دوبارہ آجائے گاتو ضروری ہے کہ حواس میں ضرورت کے علاوہ ضبط سے کام لیاجائےاور یہ اسی صورت میں ہوسکتاہے جب وہ اندھیرے کمرے میں گوشہ نشینی کرے اور اگر اندھیرا کمرہ مُیَسَّر نہ ہوتو سر کو اپنے گریبان میں رکھ لےیا کسی چادر وغیرہ سے ڈھانپ لے ایسی حالت میں جاکر وہ حق کی آواز سنے گا اور رب تعالیٰ