کہ وہ مریدکی حفاظت ایسے مضبوط قلعوں کے ساتھ کرے جس میں وہ لٹیروں سے محفوظ ہوجائے اور یہ قلعے چار چیزیں ہیں:(۱)…تنہائی وگوشہ نشینی(۲)…خاموشی(۳)…بھوک اور(۴)…شب بیداری۔
یہ چاروں قلعے ڈاکوؤں اور لٹیروں سے حفاظت کا ذریعہ ہیں کیونکہ مرید کا مقصد اپنے دل کی اِصلاح ہےتاکہ وہ اس کے ذریعے اپنے رب کا مشاہدہ کرسکےاور اس کے قرب کے لائق ہوسکے۔
﴿1﴾…بھوک:
بھوک کےسبَب دل کا خون کم اور سفیدی مائل ہوجاتاہےاوریہ سفیدی ہی درحقیقت اس کا نورہے مزید یہ کہ بھوک کے سبَب دل کی چربی پگھل جاتی ہےاور یہ چربی کا پگھلنا دل کی نرمی کا باعث ہےجیسے دل کی سختی حجاب کا باعث ہے،ایسے ہی دل کی نرمی کَشْف کی کُنجی(چابی) ہے۔
٭…فائدہ:جب دل کا خون کم ہوجاتاہےتو دشمن (شیطان)کا راستہ تنگ ہوجاتاہے کیوں اس کی گزرگاہیں وہ رگیں ہیں جو خواہشات سے بھری ہوئی ہیں۔
حضرت سیِّدُناعیسٰیرُوْحُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے حواریوں سے ارشادفرمایا:اے حواریو! اپنے پیٹوں کو بھوک میں مبتلا رکھوتاکہ تمہارے دل رب کا دیدار کرسکیں۔
حضرت سیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ تُسْتَریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتےہیں:چار چیزیں اَبدال کے لئے ضروری ہیں:(۱)…بھوک(۲)…شب بیداری(۳)…خاموشی اور(۴)…تنہائی و گوشہ نشینی۔
دل کو روشن کرنےکے سلسلے میں بھوک کا فائدہ توظاہر ہےجس پرتَجْرِبہ بھی شاہد ہے۔بھوک کےمتعلق مزید گفتگو’’پیٹ اور شرم گاہ کی شہوت ختم کرنے‘‘ کے بیان میں آئےگی۔
﴿2﴾…شب بیداری:
شب بیداری دل کوروشن،صاف وشفاف اور منوَّر کرتی ہےاور جو فائدہ بھوک کے سبَب حاصل ہوا تھا شب بیدار ی اس میں مزید نکھار پیدا کرتی ہےتو دل چمکتے ہوئے ستارے اور صاف وشفاف شیشے کی طرح ہوجاتاہےجس میں حق تعالیٰ کے انوارچمکتے ہیں اور آخرت کے بلند درجات نیز دنیا کا حقیر ہونااور اس کی آفات دکھائی دیتی ہیں، اس طرح دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی طرف مکمل توجّہ ہوتی ہے۔شب بیداری