ہے اسے راضی کرنے کی کوشش کرے کیونکہ توبہ اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتی جب تک وہ ظاہری گناہوں کو نہ چھوڑدےاور جو معصیت کے باوجوددِین کے اَسرار پر کَشْف کےذریعے مُطَّلَع ہونا چاہےاس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو قرآن اور اس کی تفسیر کے اَسر ار پر مطلع ہونا چاہے لیکن اس کا حال یہ ہوکہ اسے عربی زبان سے واقفیت نہ ہوجبکہ قرآن اور اس کی تفسیر کے اَسرار کےلئے سب سے پہلے عربی زبان کا سیکھنا ضروری ہے پھر اس سے اس کے معانی کے اَسرار کی طرف ترقی کرے۔اسی طرح شروع وآخر میں ظاہرشریعت کے مطابق درستی ضروری ہےپھر اس کے بعد اس کی گہرائی اور اَسرارورُمُوز کی طرف ترقی کرے۔
مُرشدِ کامل کی ضرورت:
جب مریدنے ان چار شرائط پر عمل کرلیا اور جاہ و منزلت اور مال سے خالی ہوگیاتو وہ اس شخص کی طرح ہوگیا جس نے طہارت و وضو کرکےحدث کو دور کیا اور نماز پڑھنے کے قابل ہوگیااب اسے امام کی حاجت ہے جس کی وہ اقتدا کرے،اسی طرح مریدکو بھی کسی مرشد واستاد کی حاجت ہوتی ہے جو اس کی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرے کیونکہ دین کا راستہ انتہائی باریک ہے جبکہ اس کے مقابلے میں شیطانی راستےبکثرت اور نُمایاں ہیں تو جس کا کوئی مرشد نہ ہو جو اس کی تربیت کرے تو یقیناً شیطان اسے اپنے راستے کی طرف لے جاتاہے۔جو پُر خطر وادیوں میں بغیر کسی کی رہنمائی کے چلتاہےوہ خود کو ہلاکت پر پیش کرتاہےجیسے خود بخود اُگنے والا پودا جلد ہی سوکھ جاتا ہے اور اگر وہ لمبے عرصے تک باقی بھی رہے تو اس کے پتے تو نکل آئیں گے لیکن وہ پھل دار نہیں ہوگا۔مرید پر ضروری ہے کہ وہ ان شرائط کی تکمیل کے بعد مرشد کا دامن اس طرح تھام لےجس طرح اندھانہر کے کنارےاپنی جان نہر پار کرانے والےکےحوالے کردیتاہےاور اس کی اِتِّباع میں کسی قسم کی مخالفت نہیں کرتااور نہ ہی اسے چھوڑتاہے۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ اگر اس کا مرشد غَلَطی کرجائےتو اس غَلَطی میں اس کا فائدہ اس نفع سے کئی گنازیادہ ہے جس میں وہ بغیر کسی مرشد کے چلے اور اس میں دُرُستی پر قائم رہے۔
چارمضبوط قلعوں کے ذریعے مرید کی حفاظت:
جب مریدایساہوجو مذکورہ چاروں شرائط کاجامع ہواور مرشد کا دامن تھامنے والا ہوتو مرشد پر لازم ہے