رکاوٹیں اور انہیں دورکرنے کے طریقے:
مرید اور رب تعالیٰ کے درمیان چار رکاوٹیں ہیں:(۱)مال(۲)جاہ ومنزلت (۳)تقلید (۴)معصیت( گناہ)۔
پہلی رکاوٹ دورکرنے کا طریقہ:
مال کی رکاوٹ اس وقت دور ہوگی جب مرید اپنی ملکیت سےمال کو نکال دے اور اس قدر ہی مال باقی رہنے دے جس کی اسے حاجت وضرورت ہو کیونکہ جب تک اس کے پاس ایک روپیہ بھی (بلاحاجت و ضرورت) رہے گااس کا دل اس کی طر ف مُتَوجّہ اورمُقَیَّدرہے گا،لہٰذاوہاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حجاب میں رہے گا۔
دوسری رکاوٹ دورکرنے کاطریقہ:
جاہ ومنزلت کی رکاوٹ اس صورت میں دور ہوگی کہ مرید جاہ ومنزلت سے دور رہے،عاجزی واِنکساری کو اپنائے،ذکروشہرت سے دور بھاگے اور ایسے اَعمال کرے جس سے لوگ بظاہر نفرت کرتے ہوں۔
تیسری رکاوٹ دور کرنے کاطریقہ:
تقلیدکی رکاوٹ اس صورت میں دو ر ہوگی کہ مریدفقہی تَعَصُّب چھوڑدے اور سچے دل سے کلمۂ طیِّبہ کی تصدیق کرے اور اس کی صداقت کو ثابت کرنےکی حرص رکھےیوں کہ خدا کے علاوہ کسی کو اپنا معبودتسلیم نہ کرےاور خواہش کے پیچھے نہ چلے۔جب وہ اس طریقہ پر عمل کرے گا تو دوسرے کی تقلیدمیں جو اِعتقاد اس نے حاصل کیا تھا اس کی حقیقت اس پر واضح ہوجائے گی اوراس پر ضروری ہے کہ وہ اس حقیقت کو مجاہدے سے حاصل کرے نہ کہ جھگڑے وغیرہ سے۔اگر اس پر جس کا وہ مقلد ہےفقہی تَعَصُّب غالب ہے اور اس کے دل میں اس کے علاوہ کسی کی گنجائش نہ ہو تو ابھی تک وہ قید اور حجاب میں ہے حالانکہ مریدکے لئے یہ شرط نہیں کہ وہ کسی خاص فقہی مذہب سے تعلُّق رکھتاہو۔
چوتھی رکاوٹ دور کرنے کاطریقہ:
معصیت ونافرمانی کی رکاوٹ اس صورت میں دور ہوگی جب وہ توبہ کرے،زیادتیوں کو ترک کردے، پختہ ارادے سے آئندہ نہ کرنے کاعہد کرے،گزشتہ گناہوں پر ندامت کا اظہار کرےاور جس کے ساتھ زیادتی کی