Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
23 - 1245
 سلطنت کا نظام ٹھیک اور عدل و انصاف قائم رہ سکتا ہے۔
	دل کا معاملہ بھی بادشاہ کی مثل ہے کہ جب یہ عقل سے مدد طلب کرے، غصہ کو قابو میں رکھے اور اس کے ذریعے خواہشات پر قابو پاکر انہی سے ایک دوسرے پر مدد حاصل کرے، کبھی خواہشات کی مخالفت کرکے غصہ کی شدت کم کرے اور کبھی غصہ کو خواہشات پرحاوی کرکے ان کا خاتمہ کرے اور خواہشات کی پیروی کو برا جانے تو اس کے اعضاء اور قوتیں معتدل رہیں گے اور اخلاق اچھے ہوجائیں گے۔
	اس طریقے کے خلاف عمل کرنے والا ایسا ہے جیساکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے (ان آیات مبارکہ میں) ارشاد فرمایا:
خواہشات کے پیروکاروں کے متعلق دو فرامین باری تعالیٰ:
﴿1﴾…
اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ وَ اَضَلَّہُ اللہُ عَلٰی عِلْمٍ (پ۲۵،الجاثية:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرالیا اور اللہ نے اسے باوصف علم کے گمراہ کیا۔
﴿2﴾…
وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ ۚ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْکَلْبِ ۚ اِنۡ تَحْمِلْ عَلَیۡہِ یَلْہَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَثۡ ؕ (پ۹،الاعراف:۱۷۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنی خواہش کا تابع ہوا تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے۔
جبکہ خواہشات کی پیروی نہ کرنے والے کے متعلقاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: 
وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی ﴿ۙ۴۰﴾ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاۡوٰی ﴿ؕ۴۱﴾ (پ۳۰،النٰزعٰت:۴۱،۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا تو بے شک جنت ہی ٹھکانہ ہے۔
	ان لشکروں کے مجاہدے اور ان میں سے ایک کو دوسرے کے خلاف استعمال کرکے ان سے بچنے کی کیفیات ”ریاضت نفس کے بیان“میں ذکر کی جائیں  گی۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ