Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
229 - 1245
تک رسائی ممکن نہیں اور سُلُوک بغیراِرادت نہیں ہوسکتااوراِرادت بغیر ایمان کے نہیں ہوسکتی اور ایمان کے نہ ہونے کا سبب ایسے عُلَما کا نہ ہونا ہے جو ہدایت ونصیحت کرتے اور راہِ طریقت کی طرف رہنمائی کرتےنیز اس بات پر تنبیہ کرتے کہ دنیا حقیر اور فانی ہےاور آخرت کا معاملہ عظیم اور دائمی ہے۔
	یہی وجہ ہے کہ مخلوق اس سے غافل،شہوات میں منہمک اور غفلت کے دریا میں غرق ہے۔عُلَما میں کوئی نہیں جو انہیں اس پر تنبیہ کرے اور اگر کوئی انہیں تنبیہ بھی کردے تو وہ اپنی جہالت کے سبَب راہِ سُلُوک کو طے نہیں کرسکتےکیونکہ جن عُلَما سے وہ راہِ سُلُوک کا راستہ معلوم کرتے ہیں وہ خود خواہشات میں مبتلااورراہِ سُلُوک سے ہٹے ہوئے ہیں۔الغرض اِرادت میں کمزوری ،راہِ سلوک کامعلوم نہ ہونا ہے اورعُلَما کا خواہشات میں مبتلا ہونا اللہ عَزَّ  وَجَلَّتک پہنچنے والےراستے کے خالی ہونے کا سبب بن گیاہے۔جب مطلوب پردے میں ہو، دلیل موجود نہ ہو،خواہش کا غلبہ ہواور طالِب غفلت میں ہو تو منزلِ مقصود تک  کیسے پہنچا جاسکتا ہے؟ ایسی صورت میں تولازماً راستہ خالی ہوگا۔اب اگر کوئی شخص خود بخود مُتَنَبِّہ ہوجائے یا کوئی اسے تنبیہ کردے اور اس کے لئے راہِ آخرت اور اس کا فائدہ ظاہر ہوجائے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اس کے لئے کچھ شرائط ہیں جن کا اِرادت کی ابتدا میں ہونا ضروری ہےاور اس کے لئے ایک پناہ گاہ ہے جسے مضبوطی سے پکڑنا ضروری ہےاور ایک قلعہ ہے جس میں اپنے آپ کو محفوظ رکھنا ضروری ہےتاکہ دشمنوں سے حفاظت ہواور اس  کے لئے کچھ وظائف ہیں جن کا راہِ سلوک میں التزام  ضروری ہے۔
شرائط اِرادت:
	ارادت سے پہلے جن شرائط کا پایا جاناضروری ہےان میں سے یہ ہے کہ اپنے اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے درمیان جو رکاوٹ دیکھے اورحِجاب(پردہ)پائے اسے دور کرے کیونکہ مخلوق کےاللہ عَزَّ  وَجَلَّتک پہنچنے سے محروم ہونے کا یہی سبب ہے۔اسی کے متعلقاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے: 
وَ جَعَلْنَا مِنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِہِمْ سَدًّا فَاَغْشَیۡنٰہُمْ فَہُمْ لَا یُبْصِرُوۡنَ ﴿۹﴾ (پ۲۲،یٰسٓ:۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے ان کے آگے دیوار بنادی اور ان کے پیچھے ایک دیوار اور انہیں اوپر سے ڈھانک دیا تو انہیں کچھ نہیں سوجھتا۔