Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
228 - 1245
میں سالن ہوتا، یہ ایک دِرہم مجھے سال بھر کےلئے کافی ہوتا۔پھر میں نے ارادہ کیا کہ مسلسل  تین دن فاقہ کروں گا اور اس کے بعد کھاؤں گا۔ پھر پانچ دن،پھر سات دن اور پھر 25دنوں کا مسلسل فاقہ کیا ( یعنی25 دن کے بعد ایک بار کھانا کھاتا)۔ 20سال تک یِہی طریقہ رہا پھر میں نے کئی سال تک سَیروسیاحت کی، واپَس تُسْتَر آیا تو جب تکاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے چاہا شب بیداری اِختیار کی۔
	حضرت سیِّدُنااحمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَدفرماتے ہیں:میں نے مرتے دم تک حضرت سیِّدُناسَہْل بن عبداللہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکو کبھی نَمک اِستِعمال کرتے نہیں دیکھا۔
چھٹی فصل: 		  اِرادت(1)کی شرائط،مجاہدے کے مُقَدَّمات اور
سُلُوکِ رِیاضت میں مُریدکی بتدریج ترقّی
	جان لیجئے کہ جو شخص آخرت کا یقینی مشاہدہ کرلیتاہے وہ اس  کا اِرادہ اورشوق رکھتاہے نیز اس کے راستوں پر چلنے کی کوشش کرتا اور دُنیاوی  نعمتوں اور لذتوں کو حقیر سمجھتاہےجیسے کسی شخص کے پاس موتی ہو اور وہ جَوہرِ نفیس(بیش قیمت پتھر)دیکھ لے تو اب موتی میں اس کی رغبت باقی نہیں رہتی اور وہ یہ چاہتاہے کہ موتی کے بدلےجوہرِ نفیس خرید لے۔جو شخص نہ توآخرت کا اِرادہ کرے اور نہ ہیاللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ملاقات کا طالب ہوتو گویا وہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتااورایمان سے یہ مراد  نہیں کہ بغیر صِدْق واِخلاص کے محض زبان سےتوحید ورسالت کی گواہی دینا۔ایسا ایمان  تو اس شخص  کےایمان کی طرح ہے جو اس بات کو تو تسلیم کرتا ہے کہ جَوہرموتی سے بہتر ہےمگر جوہر کی حقیقت کو نہیں جانتا صرف جوہر کا نام جانتا ہےاس قسم کی تصدیق کرنے والاجب موتی سے محبت کرنا شروع کر دیتاہےتو وہ اس کی محبت کی وجہ سے اسے نہیں چھوڑتا۔اب ا س کو موتی کےمقابلے میں جوہر کا اِشتیاق نہیں رہتاتو معلوم ہواکہ بغیر سُلُوک کےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ارادت راہِ سُلُوک کی اِبتدا ہے اور یہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف جانےوالوں کی پہلی منزل کا نام ہےاور اسےاِرادت سے اس لئے تعبیر کیاگیا کہ ہر کام سے پہلے ارادہ ہوتا ہے۔ جب تک بندہ کسی چیز کا ارادہ نہ کر لےاسے کرتا نہیں ،لہذا ان لوگوں کے لئے جواللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے(بتائے ہوئے) راستے پر چلیں ،یہ اِبتدا ٹھہری،تو اس کا نام اِرادت رکھ دیا گیا۔اس اعتبار سے مرید وہ ہے جس کا کوئی اِرادہ ہو مگر صوفیا کی اصطلاح میں مرید وہ ہے جس کا اپنا کوئی اِرادہ نہ ہو۔(الرسالة القشيرية،باب الارادة،ص۲۳۶)