وَقت اُٹھ کر اپنے ماموں حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سوارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکونَماز پڑھتے دیکھتا۔ایک دن انہوں نے مجھ سے فرمایا:کیاتُو اُساللہ عَزَّ وَجَلَّکو یاد نہیں کرتا جس نے تجھے پیدا فرمایا؟میں نے پوچھا : میں اسے کس طرح یاد کروں؟ فرمایا: رات کو جب سونے لگو تو زَبان کو حَرَکت دیئے بِغیرمَحْض دل میں تین مرتبہ یہ کَلِمات کہو:اَللّٰہُ مَعِیَ ،اَللّٰہُ نَاظِرٌ اِلَیَّ، اَللّٰہُ شَاھِدِییعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّ میرے ساتھ ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے دیکھ رہا ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّ میرا گواہ ہے۔فرماتے ہیں: میں نے چند راتیں یہ کَلِمات پڑھے، پھر اُنہیں بتایا ۔ انہوں نے فرمایا: اب ہر رات سات مرتبہ پڑھو۔ میں نے ایسا ہی کیا اور پھر ان کو مُطَّلع کیا ۔ فرمایا:اب ہررات گیارہ مرتبہ پڑھو۔ (فرماتے ہیں:) میں نے اِسی طرح پڑھا تومجھے دِل میں اس کی لَذت محسوس ہوئی۔ جب ایک سال گزر گیا تو میرے ماموں جان حضرت سیِّدُنا محمد بن سوارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارنے فرمایا: میں نے جو کچھ تمہیں سکھایا ہے اسے قَبْر میں جانے تک ہمیشہ پڑھتے رَہنا اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ یہ تمہیں دنیا وآخِرت میں نَفْع دے گا۔حضرت سیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ تُسْتَریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:میں نے کئی سال تک ایساہی کیا تو اپنے اندر اِس کا بے انتِہا مَزہ پایا۔ میں تنہائی میں یہ ذِکْر کرتا رہا۔ پھر ایک دن میرے ماموں جان نے فرمایا:اے سَہْل!اللہ عَزَّ وَجَلَّجس شخص کے ساتھ ہو، اسے دیکھتا ہو اوراس کا گواہ ہوتوکیا وہ اس کی نافرمانی کرتا ہے؟ ہرگز نہیں،لہٰذاتم خود کو گناہ سے بچاؤ۔ پھرماموں جان نے مجھے مکتب میں بھیج دیا ۔ میں نے سوچا کہیں میرے ذِکْر میں خَلَل نہ آجائے، لہٰذا اُستاد صاحِب سے یہ شَرْط مقرَّر کر لی کہ میں ان کے پاس جا کر صِرْف ایک گھنٹہ پڑھوں گا اور واپَس آ جاؤں گا۔میں نے مکتب میں چھ یا سات برس کی عمر میں قرآن پاک حِفْظ کرلیا۔ میں روزانہ روزہ رکھتا تھا، 12سال کی عمر تک میں جَو کی روٹی کھاتا رہا۔ 13سال کی عمر میں مجھے ایک مَسئلہ پیش آیا ،اس کے حل کیلئے گھر والوں سے اجازت لے کر میں بصرہ آیا اور وہاں کے عُلَما سے وہ مَسئلہ پوچھالیکن مجھے تسلی بخش جواب نہ ملا۔ پھر میں(بصرہ کے قریب ایک علاقے)عَبَّادَان کی طرف چلا گیا ۔ میں نے وہاں کے مشہور عالِمِ دین حضرتِ سیِّدُنا ابو حبیب حمزہ بن ابی عبداللہعَبّادانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیسے مَسئلہ پوچھا تو انہوں نے مجھے تسلّی بخش جواب دیا۔میں ایک عَرصہ ان کی صُحْبَت میں رہا، ان کے کلام سے فیض حاصِل کرتا اور ان سے آداب سیکھتا پھر میں تُسْتَر کی طرف آگیا۔ میں نے خوراک کا انتِظام یوں کیا کہ میرے لئے ایک دِرْہَم کے جَو خریدلئے جاتے اور انہیں پیس کر روٹی پکالی جاتی۔ میں ہر رات سحری کے وَقْت ایک اُوْقِیَہ (تقریباً 70 گرام) جَو کی روٹی کھاتا ، جس میں نمک نہ ہوتا اور نہ ہی ساتھ