Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
226 - 1245
 اور جو بھی چیز شریعت کی طرف سے اس کے لئے ضروری ہو اس کی تعلیم دے۔ چوری، حرام کھانے، خیانت، جھوٹ، فُحْش کلامی اورہر وہ بُری عادت جو بچوں پر غالب ہوجاتی ہے ان سب سےروکے۔ جب بچے کی اس طرح نَشْوونَما ہوگی تو جیسے ہی وہ بلوغت کے قریب پہنچے گا تووہ ان اُمُور کے اَسرار ورُمُوز کو جان لےگااور اس بات کو سمجھ لے گا کہ کھانا تو دوائی کی مثل ہےجس سے انسان کا مقصداللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اِطاعت پر تقویت حاصل کرنا ہے اور دنیا کی کوئی اصل نہیں کیونکہ یہ باقی رہنے والی نہیں اور موت اس کی نعمتوں کو ختم کرنے والی ہے، یہ دنیا عارضی گھر ہے ہمیشگی  کا نہیں جبکہ آخرت ہمیشگی  کا گھر ہے عارضی نہیں ۔موت ہر گھڑی اس کی منتظر ہےاور عقل مند آدمی وہ ہے جو دنیا میں رہ کر آخرت کے لئے زاد ِراہ تیار کرے۔جب وہ ان اَسرارورُمُوز کو سمجھ لیتاہے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ہاں اس کا رُتبہ بلند ہوجاتاہےاوروہ  جنت کی وُسعتوں سے لُطف اندوز ہوتاہے۔نشوونما اچھی ہوگی تو بُلُوغَت کے وقت یہ باتیں اس کے دل پر  اثر انداز ہوں گی اور پتھر پر لکیر کی مثل ہوں گی اور اگر اس کی نشوونما اس کے بَرخِلاف ہوئی یہاں تک کہ بچہ کھیل کود سےمانوس،فحش کلامی،بے حیائی ،کھانے ،لباس او ر زینت کا حریص اور فخروغرور میں مبتلا ہوجائےتو ایسے بچے کا دل حق قبول کرنے سے انکار کردیتاہے جیسے خشک دیوار مٹی  کوقبو ل نہیں کرتی۔
خلاصۂ کلام:
بچے کی حفاظت کا اہتمام کرےکیونکہ بچہ ایک ایسا جوہر ہےجو خیر وشر دونوں کو قبول کرتاہےاب یہ اس کے والدین پرمُنْحَصِر ہے کہ وہ بچے کو خیروشر میں سے کس جانب مائل کرتے ہیں جیساکہ مُعَلِّمِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے:كُلُّ مَوْلُوْدٍ يُّوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَاَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهٖ اَوْ يُنَصِّرَانِهٖ اَوْ يُمَجِّسَانِهٖ یعنی ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیداہوتاہے مگر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔(1) 
حکایت:بچے کی مَدَنی تربیت
	حضرتِ سیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ تُسْتَریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں، میں تین سال کی عمر کا تھا کہ رات کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری، کتاب الجنائز، باب اذا اسلم الصبی فمات...الخ،۱/ ۴۵۷، حدیث : ۱۳۵۸